اسپین کی مستقبل کی ملکہ لیونور کی فوجی تربیت کے آخری مرحلے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسپین کی ولی عہد شہزادی لیونور نے پیر کے روز جنرل ایئر اینڈ اسپیس اکیڈمی مرسیا کے شہر سان خاویئر میں اپنی 3 سالہ فوجی تربیت کے آخری اور سب سے مشکل مرحلے کا آغاز کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: یونانی شہزادی اولمپیا کی اپنے بھتیجے کی بپتسمہ تقریب میں شرکت، سفید جوڑے میں تصاویر وائرل
19 سالہ شہزادی مکمل فوجی وردی میں ملبوس الفیریز آلومنا (کیڈٹ انسائن) کے طور پر چوتھے سال کے کیڈٹس کے ساتھ شامل ہوئیں۔ وہ ایل ایک ایکس 8 پروموشن کے اس کورس کا حصہ بنیں جس میں سخت تربیت دی جاتی ہے۔
یہ مرحلہ صرف تربیت کا اختتام نہیں بلکہ ایک روایت کی تجدید بھی ہے۔ شہزادی کے والد بادشاہ فلپ ششم اور دادا بادشاہ جان کارلوس اول بھی ماضی میں اسی ادارے سے فوجی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
کوئی رعایت نہیں، مساوی تربیتاس سے قبل وزارت دفاع کی ایک نگرانی کے دوران وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے واضح کیا تھا کہ شہزادی لیونور کو کسی قسم کی خصوصی رعایت حاصل نہیں ہو گی۔
ان کے بقول شاہی خاندان کا اصول ہے کہ شہزادی کو دیگر کیڈٹس کی طرح ہی سمجھا جائے اور وہ اسی سخت شیڈول کے تحت تربیت حاصل کریں گی۔
مزید پڑھیے: یونانی جزیرے پر تاروں بھرے آسمان تلے شادی کی پیشکش، شہزادی ڈیانا کی بھانجی الائزا نے ’ہاں‘ کہہ دی
شہزادی کا روزانہ کا معمول صبح 6:30 بجے جاگنے سے شروع ہوتا ہے۔ دن بھر لیکچرز، سمیولیٹر سیشنز اور مشقیں ہوتی ہیں اور رات مطالعے یا ورزش کے بعد اختتام پذیر ہوتی ہے۔
شہزادی کی رہائش عام کیڈٹس کے ساتھ مشترکہ کمروں میں ہو گی جہاں وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔ اس ماحول کا مقصد صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی مضبوطی کو بھی جانچنا ہے۔
آنے والے مہینوں میں شہزادی لیونور کو جدید جنگی طیاروں پر تربیت دی جائے گی۔ اگر وہ تیار ہوں تو ایک سے چھ ہفتوں میں ان کے سولو فلائٹ کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔
فوجی اکیڈمی کی جدید تبدیلیاںاکیڈمی نے حالیہ برسوں میں طلبہ کے لیے رہائش، سہولیات اور تربیتی سمیولیٹرز کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے تاکہ فوجی تعلیم کے معیار کو مزید بلند کیا جا سکے۔
ہسپانوی شہزادی لیونور کے لیے یہ مرحلہ صرف تربیت نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرنے کا عمل ہے۔
مزید پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
ایک دن وہ اسپین کی مسلح افواج کی کیپٹن جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں گی اور یہ سفر نظم و ضبط، خدمت اور وقار پر مبنی قیادت کی بنیاد بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین کی مسقتبل کی ملکہ ہسپانوی شہزادی کی ملٹری تربیت ہسپانوی شہزادی لیونور ہسپانوی ولی عیہد شہزادی لیونور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین کی مسقتبل کی ملکہ ہسپانوی شہزادی لیونور شہزادی لیونور اسپین کی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔