پاکستان کے خلاف آبی دہشتگردی کی منصوبہ بندی؟ سابق بھارتی جنرل کی متنازع ویڈیو منظرِ عام پر
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں کی ایک ویڈیو نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف “پانی کو بطور ہتھیار” استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو سینئر صحافی حامد میر نے سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں جنرل ڈھلوں کھلے عام اس منصوبے پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان کے لیے سنگین ماحولیاتی اور انسانی خطرہ بن سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران جنرل ڈھلوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنا پانی روکنے کی صلاحیت ہے، ہم اسے روک لیں گے۔ اور پھر ایک دن اچانک رات کے وقت سارا پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیں گے۔ پاکستان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اسے سنبھال سکے۔ نتیجہ سیلاب ہوگا، اور پاکستان نہ صرف پانی کے نقصان سے دوچار ہوگا بلکہ اس کا درست استعمال بھی نہیں کر سکے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ہم گرمیوں میں، جب پاکستان کو پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تب پانی روک لیں گے۔ اور جب برسات کا موسم ہوگا، جب پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے، تب اچانک چھوڑ دیں گے۔ یوں ہم پانی کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔”
سندھ طاس معاہدے پر متنازع مؤقف
جنرل ڈھلوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو بھی کمزور انداز میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک دو طرفہ معاہدہ ہے۔ بھارت چاہے تو پانی روکے یا چھوڑے، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں پانی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
پاکستانی حلقوں میں اس ویڈیو کو بھارت کی مبینہ “آبی جارحیت” کے ارادوں کی عکاسی سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی جیسے قدرتی وسیلے کو ہتھیار بنانے کی سوچ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔
یہ معاملہ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی، اخلاقی اور ماحولیاتی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اگر کسی ملک نے دانستہ طور پر پانی کے بہاؤ کو سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا، تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
This retired Indian General Kanwaljeet Singh Dhiloon is dreaming to destroy Pakistan by using water as a weapon.
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) September 1, 2025
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔