نیوکلیئر توانائی سے بجلی کی پیداوار دنیا کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق گزشتہ برس نیوکلیئر ری ایکٹرز نے ماضی کے مقابلے سب سے زیادہ بجلی کی پیداوار کی۔
2024 میں نیوکلیئر ری ایکٹرز نے مجموعی طور پر 2667 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کی جو کہ ماضی میں ہونے والی پیداوار سے بہت زیادہ ہے۔
ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر میں موجود 440 کے قریب نیوکلیئر ری ایکٹر تقریباً نو فی صد بجلی پیدا کرتے ہیں۔
نیوکلیئر توانائی کے سبب تابکار فضلا وجود میں آتا ہے اس کے باوجود ادارے نے نیوکلیئر تونائی کو پائیدار اور دیر پا بجلی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ساما بلباؤ وائی لیون کا کہنا تھا کہ 2024 میں نیوکلیئر توانائی سے بجلی بنانے کا نیا ریکارڈ ایک کامیابی ہے۔ توانائی کی عالمی مانگ اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اس ریکارڈ کو سال بہ سال بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔