وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی کا شراکت داری مزید مضبوط کرنے کا عزم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد، تیانجن: (آئی پی ایس) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان آہنی اور ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی اور فسطائیت مخالف جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ پرانہیں مبارکباد پیش کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی بصیرت اور قیادت کی بدولت چین نے جدیدیت اور ترقی کی منازل طے کیں، پاکستان کو چین کی کامیابیوں پر بہت فخر ہے اور وہ اس عظیم سفر میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کرے، تاکہ مذاکرات کے ثمرات پاکستان کو مل سکیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا، انہوں نے صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے ایک اہم منصوبے کے طور پر چین -پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت کو سراہا اور سی پیک کے اپ گریڈ شدہ اگلے مرحلے میں پانچ مزید راہداریوں کے کامیاب نفاذ کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کثیرالجہتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے پختہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جس میں گلوبل گورننس اقدام، گلوبل ڈویلپمنٹ اقدام، گلوبل سیکیورٹی اقدام اور گلوبل سولائزیشن اقدام شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات اجتماعی عالمی بھلائی کے لیے ضروری ہیں اور علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت کرتے ہیں: شی جن پھنگ

اس موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، خاص طور پر جب سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے تحت پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے، اُمید ہے پاکستان چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کے ممالک کے درمیان تعلقات منفرد اور بے مثال ہیں اور اس کی عکاسی ان کے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے ذریعے ہونی چاہئے، دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

چینی صدر کا دورہ پاکستان کی دعوت

وزیراعظم نے صدر شی جن پھنگ کو اگلے سال پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع کے پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لیے اپنی انتہائی پرخلوص دعوت کی تجدید کی۔

اس ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم شہبازشریف کی بیجنگ میں روسی صدر پیوٹن سے بھی ملاقات ہوگی، تاجکستان کے صدر سے بھی ملاقات شیڈول ہے، وزیراعظم شہبازشریف بیجنگ کے مقامی ہسپتال کا بھی دورہ کریں گے۔

آذربائیجان کے صدر سے ملاقات

ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور آذربائیجان نے اپنے دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر علییف کو مبارکباد پیش کی، جو دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ایرانی صدر سے ملاقات

ریڈیو پاکستان نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، مذاکرات اور سفارت کاری کو تناؤ میں کمی اور استحکام کی جانب واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمغربی سوڈان میں خوفناک لینڈ سلائیڈنگ: ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، باغی گروپ کا دعویٰ مغربی سوڈان میں خوفناک لینڈ سلائیڈنگ: ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، باغی گروپ کا دعویٰ غزہ میں قیامت: حاملہ خاتون سمیت مزید 100 فلسطینی شہید، شہدا کی تعداد 63 ہزار سے تجاوز غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں، برطانیہ بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان دریائے راوی، ستلج اورچناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پاکستان کی جامع مذاکرات کی نگرانی کیلئے چین کو دعوت، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہیں: چینی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چینی صدر شی شہباز شریف

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری