ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اغواء کیس، ملزم حسن زاہد نے عدالت میں جرم قبول کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغواء اور نقدی چھیننے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران جج نے ملزم سے استفسار کیا:
’بتاؤ، تم نے یہ دھمکیاں اور اغواء کیوں کیا؟‘
ملزم نے عدالت کے روبرو اعتراف کرتے ہوئے کہا:
’سر جی، مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے شادی کا مطالبہ مسترد کرنے پر معروف ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا کی کوشش
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے گاڑی، پستول اور نقدی برآمد کرنی ہے، اس لیے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے پولیس کی استدعا جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ملزم کو 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، ملزم کے خلاف مقدمہ تھانہ شالیمار میں درج کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز معروف ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے ایک ویڈیو میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان حسن زاہد پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ انہیں پچھلے 2 سے 3 ماہ سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو ہراساں کرنے پر ملزم حسن زاہد کے خلاف مقدمہ درج
ٹک ٹاکر واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا
’پہلے مجھ سے کہتا تھا کہ مجھ سے شادی کرو۔ میں نے اس کا پروپوزل مسترد کیا لیکن اس کے باوجود وہ میرے پیچھے پڑا رہا۔ اس کے بعد وہ میرے گھر کے باہر آیا۔ میری والدہ گھر پر بیمار پڑی ہوئی ہیں جبکہ میرا بھائی گھر پر نہیں تھا۔ میں نے دروازہ کھولا، باہر گئی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ چلو، اس کے بعد اس نے میرا موبائل کھینچا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ میں باہر گئی، اور اس سے زبردستی اپنا موبائل واپس لیا۔ پھر اس نے مجھے زبردستی گاڑی میں ڈالا۔ میرے پاس اس چیز کی ریکارڈنگ بھی ہے۔‘
سامعہ حجاب کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میری ایک دوست ثنا یوسف بھی اسی طرح شادی سے انکار پر ماری جا چکی ہیں۔ میں ثنا نہیں بننا چاہتی۔ میں ان لڑکیوں میں شامل نہیں ہونا چاہتی جو اپنے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔‘
یہ بھی پڑھیے اغوا کرنے والے لڑکے کے ساتھ سامعہ حجاب کے تعلقات کیسے تھے؟ ٹک ٹاکر کا وی نیوز کو انٹرویو
ٹک ٹاکر نے کہا کہ اگر میں قتل کردی جاتی ہوں تو اس کا سبب یہی نوجوان ہوگا۔ لیکن اس سے پہلے میری ہر فرد سے درخواست ہے کہ وہ میرے ساتھ کھڑا ہو جائے۔
سامعہ حجاب نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے مجھ سے اس واقعہ کی مکمل تفصیل حاصل کی ہے، اور رپورٹ لکھی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسلام آباد پولیس بہت جلد اس بندے کو پکڑ لے گی۔‘
سامعہ نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر سخت ایکشن لیں کیونکہ مجھ ایسی بہت سی بچیاں ہیں، جو اس قسم کی صورت حال سے گزر رہی ہیں لیکن وہ بول نہیں پا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹاک ٹاکر حسن زاہد سامعہ حجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹاک ٹاکر حسن زاہد ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔