اغوا کرنے والے لڑکے کے ساتھ سامعہ حجاب کے تعلقات کیسے تھے؟ ٹک ٹاکر کا وی نیوز کو انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
گزشتہ روز اسلام اباد میں گھر کے باہر سے ایک لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس لڑکی جس کا نام سامعہ حجاب ہے۔ وہ ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر نمایاں ہے۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سامعہ حجاب نے کہا کہ میری دوست کائنات کی سالگرہ پارٹی میں حسن زاہد نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی۔ میں چونکہ سوشل میڈیا پر مشہور ہوں تو حسن زاہد نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے اس کو منع کیا اور خود کو اس سے دور کر لیا۔
پہلے یہ میرے گھر کے باہر آ کر بیٹھا کرتا تھا، میرے والد صاحب حیات نہیں ہیں میں اپنے گھر کی بڑی ہوں، اور والدہ پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالتی تھی، اس کی وجہ سے میں نے دو نمبر تبدیل بھی کیے!
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب pic.
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2025
’حسن زاہد نے مختلف نمبروں سے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے دوستی یا شادی کرنے کا اظہار کیا۔ میں نے اس شخص کے 28 موبائل فون نمبرز بلاک کیے لیکن اس کے باوجود وہ مجھ سے رابطہ کرتا رہا۔ میں نے پہلے بھی پولیس کو 2 مرتبہ اطلاع دی تاہم چند دنوں کے بعد حسن زاہد کی جانب سے دوبارہ سے رابطوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔‘
اس نے مجھے کہا کہ میں تم سے شادی کروں گا اور تمہیں بیسمنٹ میں بند کر دوں گا، لیکن اس سے پہلے ہی میں 15 پہ کال کروائی تھی، کیونکہ یہ صبح سے ہی میرے گھر کا پیچھا کر رہا تھا!
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب pic.twitter.com/M3ilvVvpVh
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2025
سامعہ حجاب نے بتایا ’ حسن اور اس کی والدہ نے بھی رشتہ بھیجا اور شادی کی پیشکش کی جس پر میں نے ان سے وقت مانگا تھا۔ تاہم حسن زاہد کی حرکتیں ایسی نہیں تھی کہ اس سے شادی کی جا سکے لیکن پھر بھی میں نے ان کے بہت سے اصرار کے باوجود غور وفکر کرتی رہی۔‘
سی سی ٹی وی فوٹیج میں سب نظر آ رہا ہے کہ وہ لڑکا کیسے ہمارے گھر کے باہر آیا، یہ کافی ٹائم سے مجھے دھمکیاں دے رہا تھا، میں نے پچھلے دو مہینوں میں اس کے 28 سے زیادہ نمبر بلاک کیے ہیں اور دھمکیاں دیتا تھا، ابھی اس نے میری والدہ کو کہا کہ اس کا رشتہ مجھے دے دیں، نہیں تو میں اسکی… pic.twitter.com/v86X7Tx84Q
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2025
گزشتہ روز حسن زاہد میری بیمار والدہ کی عیادت کے لیے میرے گھر آیا۔ اس نے میری والدہ سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ نہیں کی تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ اس کے علاوہ اس نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ بعد میں جاتے ہوئے اس نے مجھے کہا کہ میں نے تمہیں جو تحائف بھیجے تھے، وہ تمام تحائف مجھے واپس دو۔ اس نے میرا موبائل بھی مجھ سے چھین لیا اور مجھے زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اس موقع پر اس کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی موجود تھا جو اسے بتاتا رہا کہ یہاں پر کیمرے لگے ہیں ایسی حرکت نہ کرو۔
میں نے 15 دو، تین بار پہ پہلے بھی کال کی تھی جب اس نے میرا کارڈ چوری کیا تھا! ٹک ٹاکر سامعہ حجاب pic.twitter.com/Rz0WhIXvF6
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2025
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے مزید کیا کہنا، جانیے اس ویڈیو میں
میں حکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب سے بہت خوش ہوں انہوں نے اس معاملے کو بہت اچھے سے نوٹس لیا یے! ٹک ٹاکر سامعہ حجاب pic.twitter.com/jy1M14cwpP
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر سامعہ حجاب pic twitter com حسن زاہد کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔