Express News:
2026-06-03@06:39:45 GMT

پروفیسر غنی جاوید (پارٹ ٹو)

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

پروفیسر غنی جاوید کے ساتھ میرا عجیب سا تعلق تھا‘ ہم بطور کولیگ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے‘ وہ کام نہیں کرتے تھے‘ ان کے پاس دراصل کام کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا تھا‘ تھکے ہوئے دفتر آتے تھے‘ کام کے دوران بھی ان کے ذائرین آتے اور جاتے رہتے تھے جب کہ مجھے کام چاہیے تھا لہٰذا میری ان سے روزانہ منہ ماری ہوتی تھی‘ یہ مجھے غیر سنجیدہ اور بدتمیز بھی سمجھتے تھے‘ ان کی یہ بات غلط نہیں تھی‘ غیر سنجیدگی اور بدتمیزی اس زمانے میں اخبار کی مجبوری تھی‘ اخبار کا کام بہت سنجیدہ ہوتا ہے اور انسان تمام سنجیدہ کاموں کو صرف غیر سنجیدگی سے ہی سرانجام دے سکتا ہے۔

 دوسرا اخبار میں ٹائم لائین اہم ہوتی ہے اور اکثر اوقات اسے ’’میٹ‘‘ کرنے کے لیے ایڈیٹروں کو بدتمیزی کرنا پڑ جاتی ہے اور یہ غیر محسوس طریقے سے ان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے‘ میں ایڈیٹر نہیں تھا لیکن میرے مزاج پر بھی ماحول کا اثر ہو رہا تھا‘ پروفیسر صاحب اکثر اس کا نشانہ بن جاتے تھے اورپھر ناراض ہو جاتے تھے‘ پروفیسر صاحب مجھے آسٹرالوجی کے بارے میں بتاتے رہتے تھے‘ یہ مجھے شیکسپیئر سے لے کر جان کیٹس تک مختلف انگریزی مشاہیر کی کوٹیشن بھی سنایا کرتے تھے‘ ہم سیاست دانوں کی گاسپس بھی کرتے تھے‘ ان کے معاشقے اور خاندانی لڑائیاں ہمارا خاص موضوع ہوتی تھیں‘ پروفیسر صاحب واقعی اپنے کام کے ماہر تھے‘ وہ ہاتھ سے زائچہ بناتے تھے‘ کاغذ پر دائرہ کھینچتے تھے۔

 اس دائرے کو درمیان میں لکیر سے دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے‘ پھر دوسری لکیر سے اسے چار حصوں میں بانٹتے تھے اور پھر لکیر پر لکیر کھینچ کر انھیں بارہ خانوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور پھر ان بارہ خانوں میں مختلف ہندسے لکھ کر ڈگریاں بناتے تھے اور آخر میں کلائنٹ کے سوالوں کے جواب دیتے تھے‘ ان کا زائچہ اور پیشن گوئی بہت مضبوط ہوتی تھی‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے 1993میں میاں نوازشریف کی حکومت کی رخصتی کی پیشن گوئی پروفیسر صاحب نے سال پہلے کر دی تھی‘ میاں نواز شریف کی حکومت کی بحالی کی پیشن گوئی بھی کر دی تھی اور اس پر ان کی باقاعدہ اکبر علی بھٹی سے شرط بھی لگ گئی تھی اور یہ وہ شرط جیت بھی گئے تھے۔

 بے نظیر بھٹو کی حکومت بننے اور پھر اس حکومت کے رخصت ہونے اور فاروق احمد لغاری کے کیریئر کے خاتمے کا بھی پروفیسر صاحب نے بہت پہلے بتا دیا تھا‘ اس زمانے میں طارق پیر زادہ اور سینیٹر طارق چوہدری ان کے مستقل وزیٹر تھے‘ طارق پیرزادہ مجسٹریٹ تھے‘ ان کا گاؤں موٹر وے پر تھا اور پیر صاحب کھارہ شریف کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ یہ بعدازاں اسلام آباد کے ڈی سی بھی رہے جب کہ طارق چوہدری سینیٹر تھے اور یہ حامد ناصر چٹھہ کے گروپ میں شامل تھے‘ پروفیسر صاحب انھیں بتاتے رہتے تھے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا مستقبل روشن ہے۔

 آپ ان دونوں میں سے کسی کا پلو پکڑ لیں‘ حامد ناصر چٹھہ بھی پروفیسر صاحب کے فین تھے لیکن یہ لوگ ان کے مشوروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے‘ اس کی وجہ پروفیسر صاحب کی غربت تھی اور میرا تجربہ ہے آپ اگر غریب ہیں تو پھر آپ خواہ کتنے ہی نیک‘ پارسا اور دانش ور کیوں نہ ہو جائیں لوگ آپ کو سنجیدہ نہیں لیتے اور پروفیسر صاحب کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا‘ یہ سب بڑے لوگ ان کی کمپنی کو انجوائے کرتے تھے۔

 یہ اگر بھون چلے جاتے تھے تو یہ انھیں فون کر کے واپس بلاتے تھے لیکن انھوں نے انھیں معاشی طور پر مضبوط اور آزاد بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا‘ ان میں سے کسی نے ان کی مستقل رہائش کا بھی بندوبست نہیں کیا‘یہ کبھی اس کے پاس ہوتے تھے اور کبھی اس کے پاس چناں چہ ان کا واحد معاشی ذریعہ پاکستان اخبار میں شایع ہونے والا ان کا کالم ’’ آج کا دن کیسا گزرے گا‘‘ اور چھوٹی سی ڈیسک جاب تھی اور بس۔

پروفیسر غنی جاوید کا کالم واقعی بہت پڑھا جاتا تھا‘ یہ اس میں ہرا سٹار کے لوگوں کو ان کے دن کے بارے میں بتاتے تھے مگر اس کالم پر بھی میری ان سے روز لڑائی ہوتی تھی‘ یہ اپنا کالم اکثر لیٹ کر دیتے تھے جب کہ کاپی پریس میں بھجوانے کا وقت آ جاتا تھا‘ میں نے ایک دن شرارت کی اور ان کا کالم خود تحریر کر دیا‘ ہر اسٹار کے سامنے انٹ شنٹ پیشن گوئی کر دی اور کاپی بھجوا دی‘ یہ کاپی جانے کے بعد کالم لے کر آئے تو ہم کام ختم کر کے چائے پی رہے تھے‘ یہ شرمندہ ہو گئے ‘ کالم لپیٹ کر جیب میں رکھ لیا مگر اگلے دن کے اخبار میں ان کا کالم چھپا ہوا تھا‘ میں نے اس دن انھیں شدید غصے میں دیکھا‘ یہ پہلے نیوز روم میں چلاتے رہے اور پھر اظہر سہیل سے میری شکایت کر دی۔

 مجھے بلایاگیا‘ میں ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہوا تو اظہر سہیل ان کا کالم پڑھ رہے تھے اور اونچی آواز میں قہقہے لگا رہے تھے‘ وہ خود غالباً جوزا (Gemini) تھے اور اس دن ان کے خانے میں لکھا تھا‘ آپ آج اپنی بیگم سے لڑائی کی غلطی نہ کریں‘ آپ کو شدید مالی اور جسمانی نقصان ہو سکتا ہے‘ اظہر سہیل بار بار اونچی آواز میں یہ فقرہ پڑھتے تھے اور پھر قسم کھا کر کہتے تھے پروفیسر یار یہ پیشن گوئی سو فیصد درست ہے‘ میری آج صبح بیوی سے لڑائی ہوئی‘ اس نے میرے پاؤں پر گلاس مار دیا‘ میں لنگڑا کر دفتر آیا ہوں‘ اس کے ساتھ اس نے میری جیب سے دو ہزار روپے بھی نکال لیے‘ یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔

 آپ یقین کرو جاوید چوہدری آپ سے بڑا آسٹرالوجر ہے چناں چہ آیندہ کالم پر نام آپ کا چھپے گا اور لکھے گا یہ اور آپ کی آدھی تنخواہ بھی اس کو جائے گی‘ پروفیسر صاحب کرسی پرچیں بچیں ہو رہے تھے‘ بہرحال آخر میں ہماری صلح ہو گئی اور میں نے ان سے معذرت کر لی لیکن میں کبھی کبھار ان کا کالم لکھتا رہا‘ پروفیسر صاحب شروع میں ناراض ہوتے تھے مگر پھر یہ عادی ہو گئے اور جس دن یہ زیادہ مصروف ہوتے تھے اس دن یہ فون کر کے کہہ دیتے تھے میں کاپی کے بعد آؤں گا اور یہ اشارہ ہوتا تھا آپ بے شک میرا کالم لکھ دو اور میں اگلے دن کے لیے لوگوں کے مقدر کا فیصلہ کر دیتا تھا۔

پروفیسر صاحب بہت معصوم‘ بے لوث اور سخی انسان تھے‘ یہ لوگوں سے فیس نہیں لے سکتے تھے اور یہ عادت ان کے انتقال تک جاری رہی‘ 1996میں میاں نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے‘ اکبر علی بھٹی ان کی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر تھے چناں چہ میاں صاحب نے آتے ہی انھیں بیلنے میں دے دیا‘ ان کا سارا کاروبار برباد ہو گیا‘ پاکستان اخبار بھی اجڑ گیا‘ آدھا اخبار مجیب الرحمان شامی صاحب کے پاس چلا گیا اور آدھا سردار خان نیازی کے قبضے میں یوں پاکستان مغربی اور مشرقی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا‘ میں اس سے قبل ہی پاکستان سے فارغ ہو گیا تھا‘ اکبر علی بھٹی نے اظہر سہیل کے بعد حامد میر کو ایڈیٹر بنا دیا تھا‘ میر صاحب جوان اورگرم جوش تھے۔

 میں انھیں پسند نہیں آیا چناں چہ انھوں نے مجھے نکال دیا‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں جب اخبار کی سیڑھیاں اتر رہا تھا تو پروفیسر صاحب اوپر چڑھ رہے تھے‘ یہ مجھ سے ناراض تھے لیکن میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پریشان ہو گئے‘ مجھے ساتھ لیا اور ہم میلوڈی کے ایک چائے خانے میں بیٹھ گئے‘ میں نے انھیں بتایا‘ میں نوکری سے فارغ ہوگیا ہوں‘ انھوں نے فوراً کاغذ نکالا‘ حساب لگایا اور اس کے نیچے پنجابی میں لکھا ’’کبڑے کو لات راس آ گئی ہے‘‘ اور پھر وہ کاغذ لپیٹ کر میری جیب میں ٹھونس کر بولے ’’جیدو تم بہت جلد وہاں تک جاؤ گے جس کے بارے میں تم نے سوچا بھی نہیں ‘‘ بہرحال میں ڈیلی پاکستان سے چلا گیا اور چند ماہ بعد سارے ہی چلے گئے‘ حامد میر بھی فارغ ہوگئے بلکہ رکیے اکبر علی بھٹی بھی فارغ ہو گئے اور یوں بندہ رہا اور نہ بندہ نواز‘ پروفیسر صاحب اس کے بعد پی سی راولپنڈی میں بیٹھنے لگے‘ وہاں ان کے کسی مرید نے انھیں ہاشوانی صاحب سے کمرہ لے دیا تھا اور یہ وہاں آفیشل آسٹرالوجر ہو گئے تھے۔

 میری ان سے کبھی کبھی ملاقات ہو جاتی تھی لیکن پھر یہ ملاقاتیں بھی بند ہو گئیں‘ اس سال اپریل کے شروع میں طارق پیرزادہ صاحب کا فون آیا اور انھوں نے بتایا پروفیسر صاحب میرے پاس ہیں اور یہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ میں نے فوراً ڈرائیور بھجوا کر انھیں پک کرا لیا‘ ان کی عمر اس وقت 95سال تھی‘ بہت کم زور ہو چکے تھے‘ گاڑی سے بھی انھیں ڈرائیور نے اتارا ‘ انھیں سنائی بھی بہت کم دیتا تھا‘ مجھے منہ ان کے کان کے قریب لا کر بات کرنا پڑتی تھی یا پھر میں لکھ کر ان کے ساتھ بات کر رہا تھا‘ انھوں نے ایک اینکر کا نام لیا اور بتایا‘ میں اس کے ساتھ کام کر رہا ہوں لیکن مجھے معاوضہ نہیں ملتا‘ میرے بہت سے پیسے ان کے ذمے ہیں‘ میری مالی صورت حال اچھی نہیں‘ میں چاہتا ہوں میں تمہارے ساتھ کام کروں‘ تم میرا بندوبست کر دو‘ میں نے ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر عرض کیا‘ آپ 95سال کے ہو گئے ہیں‘ یہ عمر کام کی نہیں‘ میں بھی آپ کا بیٹا ہوں‘ آپ میرے پاس شفٹ ہو جائیں۔

 ہم سارا دن گپیں ماریں گے اور باقی ساری ذمے داریاں میری‘ یہ پوپلے منہ سے ہنسے اور بولے ’’مجھے صرف نوکری چاہیے اور بس‘‘ میں نے ان سے وعدہ کر لیا‘ آخر میں ان سے پاکستان کے بارے میں سوال کیا‘ ان کا جواب حیران کن تھا‘ ان کا کہنا تھا‘ اپریل کے آخر میں پاکستان پر بہت بڑا وار ہو گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا تو پھر2027 میں خوف ناک حملہ ہو گا اگرپاکستان اس میں بھی بچ گیا تو پھر اسے کوئی خطرہ نہیں‘ میں جب انھیں اس دن گاڑی میں بٹھا رہا تھا تو مجھے محسوس ہو رہا تھا یہ شاید میری ان سے آخری ملاقات ہے لہٰذا میں ان کے گلے بھی لگا اور ان کے دونوں گھٹنے بھی چھوئے‘ میرے دیکھا دیکھی میرے دونوں بیٹوں نے بھی ان کے گھٹنے چھو کر انھیں رخصت کیا‘ اپریل کے آخر میں پہلگام کا واقعہ پیش آ گیا اور پھر جنگ کی نوبت آ گئی۔

میں اس سارے عرصے میں پروفیسر صاحب کو یاد کرتا رہا‘ میں نے سوچا میں ان سے لازمی ملاقات کروں گا لیکن پھر مصروفیت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ میں جولائی میں ملک سے باہر تھا اور پروفیسر صاحب کے انتقال کی خبر آ گئی‘ یہ خبر سن کر میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا‘ میری آنکھوں میں آنسو تھے‘ مجھے اس وقت محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے والد دوسری بار فوت ہو گئے ہیں‘ میں روتا جا رہا تھا اور ان کی مغفرت کی دعا کرتا جا رہا تھا‘ پروفیسر غنی جاوید واقعی پروفیسر بھی تھے‘ غنی بھی تھے اور جاوید بھی ‘دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور مجھے اس عظیم انسان کے ساتھ بہت وقت گزارنے کا موقع ملا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پروفیسر صاحب کے بارے میں ہو رہا تھا ان کا کالم اظہر سہیل پیشن گوئی انھوں نے دیتے تھے ہوتی تھی کرتے تھے صاحب کے تھا اور تھے اور اور پھر کے ساتھ چناں چہ تھی اور رہے تھے فارغ ہو اور ان کے بعد گا اور کے پاس ہے اور ہو گئے اور یہ

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا