Express News:
2026-07-24@09:34:51 GMT

ایس سی او مشترکہ اعلامیے کی عالمی اہمیت

اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی حمایت اور پرامن ایٹمی توانائی تک مساوی رسائی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشنز پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کرتے ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی سخت مذمت کی گئی جب کہ فلسطین میں فوری اور پائیدار جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔

 شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے حالیہ مشترکہ اعلامیے نے عالمی منظر نامے میں ایک نیا رنگ بھر دیا ہے۔ اس اعلامیے میں، دہشت گردی کی مذمت سے لے کر دنیا کے مالیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کی تلاش، معاشی تعاون سے لے کر علاقائی ہم آہنگی تک سب موضوعات پر واضح اور جامع موقف اپنایا گیا ہے اور اس کے اندر چند خاص نکات نہایت قابلِ توجہ ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف عزم، اقتصادی خود مختاری کا عہد، عالمی حکمرانی کی اصلاح کی خواہش، ترقیاتی اقدامات اور علاقائی استحکام کے لیے حکمت عملی واضح چارٹر فراہم کرتے ہیں۔ اعلامیے نے عالمی حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگرکیا ہے۔ چینی صدر اور روسی صدر نے مل کر ایک ایسا عالمی نظم پیش کرنے کی بات کی جو یکطرفہ اخلاقیات یا سرد جنگی سوچ سے آزاد ہو اور جنوبی عالم (Global South) کے مفادات کو ترجیح دے۔ یہ موقف SCO کو ایک ایسے عہد نامے کے طور پر پیش کرتا ہے جو عالمی سطح پر منصفانہ، شراکتی اورکثیر الطرفہ حکمرانی کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔

 چین اور روس شنگھائی تعاون تنظیم کو استعمال کرتے ہوئے ایک ملٹی پولر ورلڈ آرڈر بنانے کے خواہاں ہیں۔ چین اور روس شنگھائی تعاون تنظیم کے بانی رکن ہیں اور تنظیم کے محرک ارکان ہیں۔ پاکستان کے چین کے ساتھ روایتی گہرے تعلقات ہیں جب کہ ماضی قریب میں پاکستان اور روس نے بھی اپنے باہمی تعلقات کو وسعت دی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے شنگھائی تعاون تنظیم کے قواعد و ضوابط میں درج اصولوں پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔

ایس سی او کا اجلاس، عالمی کھلاڑیوں کا ایک اعلیٰ سطح اجتماع تھا، جس نے علاقائی رابطوں میں پاکستان کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلے، عالمی تجارت اور مالیات میں مغربی غلبے کوکم کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کی زیر قیادت مغربی پابندیوں کے جوابی اقدام کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں کیونکہ روس اور ایران، شنگھائی تعاون تنظیم کے دو ایسے رکن ملک ہیں جو مغربی ملکوں کی طرف سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کا براہِ راست شکار ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد سے جہاں ایک طرف پاکستان کے سفارتی محاذ پر تنہا ہونے کے غلط تاثر اور پروپیگنڈہ کا خاتمہ ہوا ہے، دوسری طرف ایس سی او کے رکن ملکوں کی طرف سے تنظیم کے قیام کے بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم رہنے اور عالمی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں باہمی تعاون اور شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کا واضح پیغام دیا ہے۔

 شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 24 برس قبل عمل میں آیا تھا ، آج اس تنظیم کا شمار دنیا کے اہم فورمز میں ہوتا ہے۔ ایس سی او بظاہر اب محض ایک مکالماتی فورم سے ہٹ کر خود کو باہمی تعاون کے ایک ایسے جامع پلیٹ فارم میں بدل لینا چاہتی ہے، جو ٹھوس نتائج کا ضامن ہو اور جس سے رکن ممالک کے عام شہریوں کو بھی فائدہ پہنچے، لیکن سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ یہ تنظیم کس طرح کیا مقصد حاصل کر سکے گی؟ قریب ڈھائی عشرے قبل جب ایس سی او کا قیام عمل میں آیا تھا، تو اس کا مقصد زیادہ تر وسطی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کا راستہ روکنا تھا۔ اس میں کئی ممالک ایسے بھی ہیں، جو واضح طور پر امریکا کے مسلمہ مخالف یا حریف ہیں، مثلا ایران، چین، روس اور ماسکو کا قریبی اتحادی ملک بیلا روس۔ 2017ء میں اس تنظیم میں مکمل رکن ممالک کے طور پر پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کر لیا گیا تھا، جس کے بعد 2023ء میں اس میں ایران اور پھر 2024ء میں بیلاروس بھی شامل ہو گئے تھے۔

 پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والی بھارتی حکومت اس بار خود ہی بے نقاب ہو گئی۔ پاکستان دشمنی میں بھارت نے نہ صرف آذربائیجان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی بلکہ اپنے قریبی اتحادی آرمینیا کو بھی مشکل صورتحال سے دوچارکردیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی حالیہ سرگرمیوں کے دوران بھارت نے آذربائیجان کی مکمل رکنیت کو ویٹو کیا، جس کے نتیجے میں آرمینیا کی رکنیت بھی رک گئی۔

قبل ازیں غیر رسمی اتفاق رائے یہ تھا کہ دونوں ممالک کو بیک وقت رکن بنایا جائے گا۔سفارتی ذرایع کے مطابق اصولی طور پر آذربائیجان اور آرمینیا کو ایک ساتھ تنظیم میں شامل کیا جانا تھا، تاہم بھارت کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کے بعد دونوں ممالک کی رکنیت موخر ہوگئی۔

 SCO نے RATS یعنی علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کو فعال انداز میں استعمال کرنے کا عزم دہرایا اور مشترکہ مشقوں اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے اتحاد کو مزید مستحکم بنانے کی بات کی گئی ۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اعلان ایک سفارتی توازن کو ظاہر کرتا ہے، یہاں دہشت گردی کی مذمت ہموار انداز میں کی گئی ہے اور پاکستان کے ساتھ کسی ایک طرف داری سے گریزکیا گیا ہے، جو اس تنظیم کے اندر پیچیدہ علاقائی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی محتاط اقدام ہے۔

سیکیورٹی سے آگے، اشتراکِ معاشی ترقی کے شعبوں نے بھی اصل رول ادا کیا۔ اعلامیے نے SCO کے اندر مشترکہ ترقیاتی بینک کے قیام کا عندیہ دیا، اور چین نے دلچسپی ظاہرکی کہ آیندہ تین برس میں ارکان کو آزاد امداد اور قرضہ فراہم کیا جائے دو ارب یوآن کا تعاون موجودہ سال اور دس ارب یوآن آیندہ تین سالوں میں یہ اقدام SCO کو مالیاتی خود مختاری کی طرف بڑھاتا ہے، ایک چیلنج جو عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی برتری کو محدود کرنے کی کوشش ہے اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں متبادل پیش کرتا ہے۔

 ترقیاتی ممالک کو ٹیکنالوجی تک برابری کی رسائی دینے کا وعدہ کرتا ہے، جو عالمی ٹیکنالوجی تقسیم کے خلاف ایک مضبوط جواب ہے۔ SCO نے ’سال آف سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ‘ کے عنوان سے ماحولیات، بقا، نوجوانوں کی شرکت، ہنگامی ردعمل اور صحت عامہ کے شعبوں میں کام کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم صرف سیکیورٹی یا معاشی مسائل پر نہ رکی بلکہ معاشرتی فلاح اور ماحولیاتی استحکام کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

SCO نے تجارتی تعاون، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر کو فروغ دینے کا عہد بھی دہرایا، جس میں ڈیجیٹل اکانومی، ای کامرس، انفارمیشن سیکیورٹی، ڈیٹا ایکسچینج، الیکٹرانک پیمنٹس اور ڈیجیٹل سرحد پار کاروبار شامل ہیں۔ یہ داخلی تیز رفتاری پوسٹ COVID-19، گلوبل سپلائی چین اور تجارت میں رکاوٹوں کے جواب میں اہم حربہ ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو ترقی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بننا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی اور اسٹرٹیجک تناظر میں، SCO اعلامیے نے قابلِ غور اہمیت اور توازن کو برقرار رکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عزم میں پہلگام، جعفر ایکسپریس اور خضدار واقعات کو یکساں سطح پر لے کر پاکستان کے دفاع کو اجاگر کیا گیا۔

اقتصادی تعاون میں SCO بینک اور چین کی مالی مدد نے پاکستان کو انفرا اسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے نئے مالی وسائل فراہم کیے ہیں، مگر اس میں چیلنجز بھی پوشیدہ ہیں۔ ایک مشترکہ بینک کی تشکیل عملی مرحلے میں پیچیدگی اور ممبر ممالک کے مفادات کے تصادم سے دوچار ہو سکتی ہے۔ AI اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے تعاون میں تحفظِ ڈیٹا، قانونی ڈھانچے اور قومی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جانا ہوگا۔ سیکیورٹی کے شعبے میں دہشت گردی کے خلاف اتحاد بظاہر مضبوط ہے، مگر اس کے علاوہ خطے میں عسکری اور سیاسی توازن پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ اعلامیہ، مجموعی طور پر، SCO کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دوبارہ متحرک کرتا ہے جو کم از کم چار اہم جہتوں سیکیورٹی، اقتصادی، ٹیکنالوجی، عالمی حکمرانی میں کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ تنظیم عالمی سطح پر مغربی غلبہ کو چیلنج کرنے اور ایک متوازن، منصفانہ اور ہم آہنگ عالمی ڈھانچے کی تعمیر کے خواہاں ہے، جہاں پاکستان جیسے ممالک کو نہ صرف موقع بلکہ شراکت کا پلیٹ فارم بھی میسر ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم کے مشترکہ اعلامیے پاکستان کے اعلامیے نے ایس سی او کے طور پر ممالک کے کے خلاف اور روس کرتا ہے کے لیے کو بھی کیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر