بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین گئے۔ انھوں نے وہاں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ یہ بھارت کی سفارتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ گزشتہ کئی سال سے بھارت اور چین کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار تھے۔
سرحدی تنازعات بھی موجود تھے۔ سرحدوں پر کشیدگی بھی تھی۔ لیکن اب جب بھارت اور امریکا کے درمیان کشیدگی نظر آرہی ہے، بھارت نے چین کے ساتھ قربت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم نریندر مودی چین کے درہ پر نظر آئے ہیں۔ اس دورے پر جانے سے قبل ہی بھارتی وزیراعظ نے چینی شہریوں پر بھارت کے ویزے کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
بھارت اور چین کے درمیان ڈائریکٹ فلائٹس شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ سرحدی علاقوں میں بارڈر ٹریڈ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ چین کے وزیر خارجہ نے بھی بھارت کا دورہ کیا تھا۔ اس لیے کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ بیجنگ جانے سے قبل بھارت نے چین سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کافی کام کیا تھا۔ اب اس کے نتائج پر بات ہو سکتی ہے۔
اگر ہم بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی تصاویر دیکھیں تو مودی نے روسی صدر پوٹن اور چینی صدر کے ساتھ اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ کہیں نہ کہیں وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت، چین اور روس ایک بڑا بلاک بنا سکتے ہیں۔ وہ تصاویر اپنے اندرکئی معنی رکھتی ہیں۔ لیکن ایک رائے یہ بھی تھی کہ مودی امریکا کو ان تصاویر سے پیغام دے رہے ہیں کہ بھارت آپ سے بہت دور چلا جائے گا۔ شاید امریکی بھی سمجھ گئے کہ یہ تصاویر ہمارے لیے ہیں۔
اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ کا بھارت کے وزیر اعظم مودی کے دورہ چین کے بعد ایک اور سخت پیغام آگیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے امریکا کو دھوکا دیا ہے۔ بھارت نے امریکا سے مالی فوائد حاصل کیے ہیں۔ جواب میں امریکا کو کچھ نہیں دیا، دھوکا ہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہ بھارت ہمیں زیرو ٹیرف کی پیشکش کر رہا ہے۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ بھارت ا سلحہ روس سے خریدتا ہے۔ تیل روس سے خریدتا ہے۔ اس لیے بھارت اور امریکا کے درمیان تعاون کی کوئی شکل نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مودی کو تصاویر کا معقول جواب مل گیا ہے۔ انھوں نے امریکا کو پیغام دینے کے لیے یہ تصاویر لگائی تھیں، امریکا نے جواب دے دیا۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مودی کا دورہ چین کتنا کامیاب رہا ہے؟
مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ایک دن کی شرکت کے بعد ہی واپس بھارت آگئے۔ باقی سب سربراہ مملکت ابھی وہاں موجود ہیں۔ صرف مودی جلدی واپس چلے گئے۔ یہ بھی کوئی اچھا پیغام نہیں ہے۔ اگر بھارتی وزیراعظم مودی گئے تھے تو انھیں کھلے دل کے ساتھ جانا چاہیے تھا۔ ورنہ نہیں جانا چاہیے تھا۔
صرف تصاویر سے پیغام نہیں دیا جا سکتا۔ سارے ملک سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یقینا امریکیوں کو اندازہ ہوگیا کہ مودی کو چین میں کوئی خاص پذیرآئی نہیں ملی ہے۔ اسی لیے ٹرمپ نے سخت پیغام جاری کر دیا۔ امریکا کو سمجھ آگئی ہے کہ مودی بلف کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے ایک اور سخت پیغام بلکہ وارننگ جاری کر دی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے ساتھ چین نے جنگ عظیم دوئم میں اپنی کامیابی کے حوالے سے ایک فوجی پریڈ بھی رکھی ہے۔ یہ چین کی فوجی طاقت کا عظیم مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک شاندار پریڈ رکھی گئی ہے۔ دنیا کے 26ممالک کے سربراہ اس پریڈ میں موجود ہوںگے۔ روسی صدر پوٹن اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی پریڈ میں شریک ہوںگے۔ شنگھا ئی تعاون تنظیم کے باقی ممبران بھی موجود ہوںگے۔مودی اس پریڈ میں شریک نہیں ہوںگے۔
ایک رائے یہ ہے کہ یہ پریڈ چین کی جاپان پر فتح کی وجہ سے ہے۔ جاپان اس پریڈ سے خوش نہیں ۔ اسی لیے جاپانی وزارت خارجہ نے اپنے دوست ممالک کو اس پریڈ میں شریک ہونے سے روکا ہے۔ بھارت جاپان کے دباؤ میں اس پریڈ میں شریک نہیں ہو رہا ہے۔ آج دنیا جہاں کھڑی ہے، وہاں مودی کو چند بڑے فیصلے کرنے ہے۔ اگر وہ چین گئے تھے تو کھلے دل سے جانا چاہیے تھا۔
جہان تک پاکستان کی بات ہے، پاکستان اور چین کے تعلقات بہترین ہیں۔ چین اور پاکستان میں اقتصادی تعاون کی مزید راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ بھارت ا ور پاکستان میں فرق سمجھیں۔ بھارت مغرب سے مراعات یہ کہہ کر لیتا رہا ہے کہ وہ چین کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ مغرب اور امریکا بھارت کو چین کے مقابلے کے لیے مضبوط کر رہے تھے۔ بھارت کی اقتصادری ترقی میں بھارت کا کمال کم ہے، اس میں اس کی چین سے مخالفت بڑی وجہ تھی۔ ساری مراعات چین مخالفت میں ملی ہیں۔ اب اگر بھارت چین کی قربت میں جانا چاہتا ہے تو مغرب کو قبول نہیں ہوگا۔
جیسے مغرب کو بھارت کا روس سے تیل خریدنا قبول نہیں۔ آپ دو طرف نہیں کھیل سکتے۔ پاکستان نے مغرب کو کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم چین کے مقابلے میں آپ کے ساتھ ہیں۔ پاکستان نے بھارت کی طرح کبھی مغرب کے سامنے چین کو نہیں بیچا۔ اس لیے مغرب اور امریکا ہم سے چین کے خلاف کچھ توقع نہیں کرتے ۔ ہمیں مغرب سے بھارت کے مقابلے میں کم مراعات ملی ہوںگی۔ لیکن ہم نے چین مخالفت کی کبھی بات نہیں کی، اس لیے پاکستان سے چین کی مخالفت کی توقع نہیں ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر میں یہ بات طے ہے کہ کسی بھی نئے ملک کو مکمل اتفاق رائے سے ہی ممبر بنایا جائے گا۔ آذر بائیجان کی ممبر شپ کی بھارت نے مخالفت کی جس پرآذر بائیجان اس دفعہ شنگھائی تعاون تنظیم کا ممبر نہیں بن سکا۔ جواب میں پاکستان نے آرمینیا کی ممبر شپ کی مخالفت کر دی اور آرمینیا بھی ممبر نہیں بن سکا۔ حالانکہ اس اجلاس سے پہلے پاکستان اور آرمینیا کے سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔
اس لیے مجھے نہیں لگتاکہ آرمینیا آزر بائیجان کی ممبر شپ روک رہا تھا۔ وہ تو اپنی چاہ رہا تھا، اسی لیے تو اس نے پاکستان سے تعلقات قائم کیے۔ بھارت نے آذر بائیجان کی مخالفت آرمینیا کی وجہ سے نہیں کی۔ اس نے شاید آذر بائیجان کی مخالفت پاکستان سے دوستی کی وجہ سے کی۔ اسی لیے پاکستان کو آرمینیا کے خلاف ووٹ ڈالنا پڑا۔ لیکن شاید آرمینیا سمجھتا ہے کہ اگر بھارت آذر بائیجان کی مخالفت نہ کرتا تو دونوں ممبر بن جاتے۔ چین بھی دونوں کو ممبر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن بھارت کی وجہ سے معاملہ خراب ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم کے ا ذر بائیجان کی پریڈ میں شریک اس پریڈ میں اور امریکا کی مخالفت بھارت اور امریکا کو کے درمیان کی وجہ سے کہ بھارت بھارت کے بھارت نے ا رمینیا بھارت کی اور چین کے وزیر کے ساتھ اسی لیے کہ مودی بھارت ا ا ہے کہ چین کی رہا ہے اس لیے نے چین کے لیے چین کے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ