عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اہم ہدایات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومتِ پنجاب نے عید میلاد النبیؐ کے موقع پر صوبہ بھر میں مذہبی عقیدت و احترام اور شایانِ شان انداز میں تقاریب کے اہتمام کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عید میلاد النبیﷺ پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
ترجمان نے بتایا کہ صوبے کے بڑے جلوسوں کے راستوں پر سبیلیں لگائی جائیں گی جبکہ اہم اور ممتاز عمارتوں، بینکوں اور دفاتر کو سبز برقی قمقموں سے روشن کیا جائے گا۔
جمعہ المبارک 11 ربیع الاول کو تمام سرکاری و نجی سکولوں میں محافلِ میلاد منعقد ہوں گی۔
مزید برآں، سیلاب متاثرین کے ریلیف کیمپوں اور پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں میں مٹھائی تقسیم کی جائے گی۔
عید میلاد کے موقع پر 6 ستمبر کے تناظر میں شہداء کے لیے خصوصی دعائیہ تقاریب کا بھی اہتمام ہوگا۔
محکمہ داخلہ کے مطابق اس موقع پر امن، رواداری اور باہمی اتحاد کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اس سلسلے میں پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
12 ربیع الاول حکومت پنجاب سیلاب متاثرین عید میلاد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 12 ربیع الاول حکومت پنجاب سیلاب متاثرین عید میلاد عید میلاد کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت