بیجنگ پریڈ میں چینی صدر، پیوٹن اور شہباز شریف ایک ساتھ، بھارت کو دعوت نہ ملی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
چین میں دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ شاندار فوجی پریڈ میں ایشیا کے طاقتور ترین رہنما ایک ساتھ دکھائی دیے۔
بیجنگ میں ہونے والی اس عظیم الشان تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک ساتھ پریڈ وینیو میں داخل ہوئے، جسے عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔
پریڈ میں پاکستان کی اعلی سطح کی شرکت خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ تینوں رہنماؤں کی ایک ساتھ موجودگی کو ایشیائی طاقتوں کے اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر بھارتی وزیراعظم کو تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا، جس پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کی یہ عظیم الشان پریڈ نہ صرف ماضی کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع بنی بلکہ خطے کی موجودہ سیاسی اور اسٹریٹیجک صورتحال کا بھی عملی اظہار رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک ساتھ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔