جوا ایپ پروموشن کیس: ڈکی بھائی کا مزید 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) جوا ایپ کی پروموشن کے مقدمے میں گرفتار مشہور یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کا مزید 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔
ضلعی کچہری لاہور میں مقدمے کی سماعت کے دوران ڈکی بھائی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی میں دس منٹ کی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں وکیل عثمان مشتاق نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو بیان دینے کی اجازت دی جائے۔
ڈکی بھائی نے عدالت میں کہا: “میں تفتیش سے مطمئن ہوں، ادارے مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، میں اداروں کی عزت کرتا ہوں۔”
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے ڈیوائسز اور اکاؤنٹس برآمد کرنے باقی ہیں، اس لیے مزید 5 دن کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور حکم دیا کہ ڈکی بھائی کو دوبارہ 5 ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔