سی ڈی اے مزدور یونین کے زیر اہتمام عید میلادالنبی کا عظیم الشان جلوس 6ستمبر کو برآمد ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سی ڈی اے مزدور یونین کے زیر اہتمام عید میلادالنبی کا عظیم الشان جلوس 6ستمبر کو برآمد ہوگا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سی ڈی اے مزدور یونین اور بارہ رکنی میلاد کمیٹی کے زیر اہتمام پندرہ سوواں جشنِ عید میلادالنبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس موقع پر ایک عظیم الشان جلوس بروز ہفتہ 6 ستمبر صبح 10 بجے سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین کی رہائش گاہ مکان نمبر 444-C سیکٹرG-6/1-2 سے شروع ہو کر بھٹوگرانڈ سیکٹرجی سیون پہنچے گا۔
جلوس کی قیادت معروف روحانی شخصیت پیر بدرعالم جان سجادہ نشین آستانہ عالیہ خیریہ مرشد آباد شریف پشاورکریں گے۔جلوس میں تاحیات چیئرمین مرکزی میلادکمیٹی پیر سید محمد علی واسطی،پیرعبید احمد عبید نقشبندی،مولانا عبدالغنی نقشبندی،مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین،علامہ پیر وحید احمدشاہ،علامہ ڈاکٹرمیاں عبدالقادرسکندری،علامہ سید محمد جہانگیرشاہ سعیدی،صاحبزادہ حسیب احمد نظیری،قاری املاک حسین چشتی سمیت علما کرام، مشائخ عظام، مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان سمیت ہزاروں عاشقانِ رسول شرکت کریں گے۔
بعدازاں جلوس نمازِ ظہر کے بعد بھٹو گرانڈسے ہوتا ہوا الحبیب مارکیٹ، میلوڈی مارکیٹ کے راستے سے گزرتا ہوا سخی محمود بادشاہ دربار پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے اختتام پر اجتماعی دعا ہوگی جس میں ملک و قوم کی سلامتی، ترقی و خوشحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔ اس موقع پر عاشقانِ رسول میں لنگر تقسیم کیا جائے گا جبکہ نعت خوانی اور درود و سلام کی محافل بھی منعقد ہوں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگورنر پنجاب نے جہیز سیلاب میں بہہ جانے پر9بچیوں کی شادی کی ذمہ داری اٹھا لی گورنر پنجاب نے جہیز سیلاب میں بہہ جانے پر9بچیوں کی شادی کی ذمہ داری اٹھا لی راولپنڈی اور مری میں ڈینگی کے وار جاری، 24گھنٹوں میں 11نئے کیسز رپورٹ وفاقی حکومت کا کراچی اور حیدرآباد کے درمیان نئی موٹروے بنانے کا فیصلہ اگلے 24سے 48گھنٹوں میں مزید بارش، این ڈی ایم اے نے خبردار کردیا لکی مروت میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران دہشت گرد کمانڈر مارا گیا چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، پنڈوریاں ،ہمک اور ملپور میں نئے قبرستانوں کیلئے ایک ہزار کنال سے زائد اراضی مختصCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے مزدور یونین مزدور یونین کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔