کالاباغ ڈیم متنازع منصوبہ ہے اور اے این پی کسی صورت قبول نہیں کرے گی، میاں افتخار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم متنازع منصوبہ ہے اور کالا باغ ڈیم منصوبہ اے این پی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین کا کہنا تھاکہ اے این پی آج بھی اپنے تاریخی مؤقف پرقائم ہے، مردہ منصوبے کو زندہ نہیں ہونے دیں گے، پنجاب کے عوام کے نقصان پر اتنا ہی دکھ ہے جتنا اپنے عوام کے دکھ پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم متنازع منصوبہ ہے اور کالا باغ ڈیم منصوبہ اے این پی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھاکہ کالاباغ ڈیم سے سیلاب کا کوئی تعلق نہیں، یہ بھارتی دریاؤں کے پانی سے آیا ہے، کالاباغ ڈیم پربےبنیاد دعوے عوام کوگمراہ کرنے اور ملک کوغیرمستحکم کرنےکی کوشش ہے، یہ منصوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے لیے تباہی ہے۔
میاں افتخار حسین کا کہناتھاکہ اگر ڈیم بنانا ہے توبھاشا ڈیم بنایا جائے جس کااختیار براہِ راست خیبرپختونخوا کے پاس ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپوربانی پی ٹی آئی سے بھی وفادارنہیں رہے، صوبے سے کیا وفاداری کرے گا؟
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کالاباغ ڈیم بنانے کی حمایت کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میاں افتخار کالاباغ ڈیم اے این پی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔