علی امین گنڈا پور کو کالاباغ ڈیم سے متعلق بیان پر وضاحت کرنی چاہیے، گورنرکے پی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
پشاور:
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو کالاباغ ڈیم کے بیان پر وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ ان کا اپنا مؤقف ہے یا پارٹی کا اور دہشت گردی کے معاملے پر بھی وزیراعلیٰ کو اسمبلی میں اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔
گورنر ہاؤس پزاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ وقت متنازع معاملات پر سیاست کا نہیں، یہ وقت سیلاب زدگان کی بحالی کا ہے لیکن وزیراعلیٰ نے سیلاب سے لوگوں کا دھیان ہٹا نے کے لیے کالاباغ کا ایشوز چھیڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدوں پر براجمان شخصیات کا بیان ذاتی نہیں ہوتا بلکہ پارٹی مؤقف ہوتا ہے، وزیراعلیٰ کے اس بیان پر ان کی اپنی پارٹی بھی ساتھ نہیں، اگر وزیر اعلیٰ کو کچھ امداد نہیں چاہیے تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ کیوں کاٹ رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارے صوبے کو امداد کی ضرورت ہے، وسائل کی ضرورت ہے، اس وقت پانی کی بوتل سے لے کر گھر تک متاثرین کو ضرورت ہے، حکومت سندھ نے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ متاثرین کے لیے امداد بھیجی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک دورے کے موقع پر سیلاب زدگان کی امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ہم سیلاب میں کھڑے ہوکر تصویریں بنانے کے شوقین نہیں لیکن سیلاب متاثرین کی امداد کی جارہی ہے۔
بنوں میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج، پولیس، سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، دہشت گردی کے واقعات پر وزیر اعلیٰ کو اسمبلی میں پالیسی بیان دینا چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ واضح کریں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ہیں یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔