بلوچستان میں مفاہمت کے سوا کوئی راستہ نہیں، صدر سپریم کورٹ بار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا نے سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ دھماکا: امن و امان صوبائی معاملہ تاہم ضرورت پڑی وفاق مدد فراہم کرے گا، گورنر بلوچستان
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان میں ہونے والا حملہ ایک انتہائی دردناک واقعہ تھا جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔
انہوں نے سیاسی کارکنان کی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کی۔
میاں رؤف عطا نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے اثرات پورے معاشرے پر پڑ رہے ہیں، کاروبار شدید متاثر ہے، زمینی راستے تقریباً بند ہوچکے ہیں جبکہ فضائی سفر اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ ایک ٹکٹ 70 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اس صورتحال پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کرپشن اور مس مینجمنٹ عروج پر ہے، جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
تربت میں فورسز کے 5 اہلکاروں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہمارا ہی نقصان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ بلوچستان کا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ دوبارہ اسمبلی سے اتفاق رائے سے منظور کرانے کا اعلان
سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ وزیر داخلہ بلوچستان میں کیمپ آفس قائم کریں اور براہِ راست عوام سے ملاقات کریں تاکہ عوامی مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بدامنی کے باعث بلوچستان کا ہر بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہورہا ہے، ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا اور امن و امان پر توجہ دینا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مفاہمت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
میاں رؤف عطا نے کہا کہ ہم مطالبہ کریں گے کہ صوبے میں گڈ گورننس لائی جائے اور سنجیدہ و تجربہ کار لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان انصاف کی فراہمی دہلیز تک پہنچانے کا تقاضا کرتا ہے، اس حوالے سے چیف جسٹس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی عمارت کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف مشن کی صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف عطا سے ملاقات
پنجاب کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے میاں رؤف عطا نے پنجاب سی سی ڈی کے انکاؤنٹرز کو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں خلافِ قانون ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی اعلیٰ عدلیہ کیسز کا ٹرائل سات سے پندرہ دن کے اندر مکمل کرے تاکہ لوگوں کو جلد انصاف مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بدامنی بلوچستان صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف عطا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف عطا ان کا کہنا تھا کہ میاں رؤف عطا نے سپریم کورٹ بار بلوچستان میں نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ