اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک بھر میں متاثرہ گرڈز اور فیڈرز کی بڑی تعداد بحال کر دی گئی ہے اور 16 لاکھ سے زائد متاثرہ صارفین میں سے 13 لاکھ سے زیادہ کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیسکو کے علاقے سوات، بنر، شانگلہ، صوابی اور ڈی آئی خان میں 12 گرڈ اور 91 فیڈرز متاثر ہوئے تھے، جن میں سے 85 فیڈرز مکمل اور 6 جزوی طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔ 4 لاکھ 63 ہزار سے زائد متاثرہ صارفین میں سے 4 لاکھ 59 ہزار کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے جبکہ باقی ساڑھے 3 ہزار صارفین کے لیے بحالی کا کام 12 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

گیپکو کے 11 گرڈز اور 103 متاثرہ فیڈرز میں سے 88 بحال ہو چکے ہیں، 7 لاکھ 35 ہزار متاثرہ صارفین میں سے 6 لاکھ 60 ہزار کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔ باقی 75 ہزار صارفین کے لیے بحالی کا عمل پانی اترنے کے بعد مکمل ہوگا۔

لیسکو میں لاہور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 44 مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔ 73 ہزار میں سے 59 ہزار صارفین کو بجلی مل چکی ہے جبکہ باقی صارفین کو 5 ستمبر تک بجلی فراہم کر دی جائے گی۔

فیسکو کے زیرِ انتظام فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں 26 گرڈز اور 77 فیڈرز متاثر ہوئے تھے۔ اب تک 19 مکمل اور 54 عارضی طور پر بحال کیے جا چکے ہیں۔ متاثرہ صارفین کی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار تھی جن میں سے 93 ہزار سے زائد کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔

میپکو کے زیرِ انتظام 139 فیڈرز متاثر ہوئے جس سے 96 ہزار سے زائد صارفین متاثر ہوئے۔ پانی اترتے ہی ان فیڈرز کی بحالی شروع کی جائے گی۔

ٹیسکو کے علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر میں 17 فیڈرز متاثر ہوئے تھے۔ 2 مکمل اور 11 عارضی طور پر بحال ہو گئے ہیں۔ 31 ہزار میں سے 7 ہزار صارفین کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ باقی صارفین کو 5 ستمبر کی شام تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

ہیزیکو کے زیرِ انتظام مانسہرہ کے تینوں متاثرہ فیڈرز مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق مجموعی طور پر 49 گرڈز اور 497 متاثرہ فیڈرز میں سے 239 مکمل اور 249 کو عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے۔ یوں اب تک 16 لاکھ 23 ہزار متاثرہ صارفین میں سے 13 لاکھ 7 ہزار کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔ باقی تین لاکھ 15 ہزار سے زائد صارفین کے لیے بجلی کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے متاثرہ صارفین میں سے فیڈرز متاثر ہوئے متاثرہ فیڈرز ہزار صارفین طور پر بحال صارفین کو کی بحالی مکمل اور گرڈز اور

پڑھیں:

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔

مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔

پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔

پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔

پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔

پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔

ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود