13 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے مجرم کو موت تک پھانسی پر لٹکائے رکھنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
عدالت نے کم عمر بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم عرفان عظیم کو 3 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلے میں لکھا کہ مجرم کو قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی جب کہ زیادتی کے جرم میں بھی سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
اسی طرح اغوا کے جرم میں بھی سزائے موت کے ساتھ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مجموعی طور پر مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
مجرم نے مارچ 2023ء میں تھانہ دھمیال کے علاقے سے 13 سالہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور چھری کے وار سے قتل کر دیا تھا۔ ٹھوس شواہد اور مؤثر پیروی کی بنیاد پر عدالت نے مجرم کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسے پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک موت واقع نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سزائے موت
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔