اسلام آباد میں واقع ویژن پاکستان عمارت نے آرکیٹیکچر کا عالمی ایوارڈ حاصل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پاکستان کے دارالحکومت میں واقع "ویژن پاکستان" عمارت نے آرکیٹیکچر کا عالمی ایوارڈ حاصل کرلیا۔ویژن پاکستان عمارت کو 16ویں ایوارڈ سائیکل کے تحت 7 ممالک کے ساتھ منتخب کیا گیا ہے۔
ایوارڈ حاصل کرنے والے دیگر ممالک میں بنگلہ دیش، چین، مصر، ایران اور فلسطین شامل ہیں۔یہ عمارت ڈی بی سٹوڈیز نے جدید خطوط پر ڈیزائن کی ہے۔پاکستانی و عرب فنِ تعمیر سے متاثرہ یہ عمارت پسماندہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے والے خیراتی ادارے کا مرکز ہے۔
"ویژن پاکستان" نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ ہے۔یہ عمارت، آرکیٹیکٹ سیف اللہ صدیقی نے ڈیزائن کی ہے۔
آرکیٹیکٹ سیف اللہ صدیقی نے کہا کہ یہ عمارت ایک ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ہے، جس کا مقصد کم وسائل والے بچوں کو خود مختاری سیکھنے کا ماحول فراہم کرنا ہے، ہم جو بھی پروجیکٹ تعمیر کرتے ہیں اس میں موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
ویژن پاکستان کی کلائنٹ، رشدا طارق قریشی نے کہا کہ یہ عمارت صرف جمالیاتی طور پر خوبصورت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں زندگیوں کو بدلنے کی طاقت ہے۔
کوئی بھی نوجوان جو کبھی کسی منظم کلاس روم یا روشن مستقبل کا حصہ نہیں رہا، جب یہاں آتا ہے تو یہ جگہ اسے مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویژن پاکستان یہ عمارت
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔