گلوبل صمود فلوٹیلا: 70 سے زائد امدادی جہازوں پر مشتمل قافلہ غزہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
تیونس سے امدادی سامان اور کارکنان پر مشتمل ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کا قافلہ غزہ کیلئے روانہ ہوگیا۔
اس قافلے میں 44 ممالک کے انسانی حقوق کے کارکنان شامل ہیں، جو 70 سے زائد جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
پاکستانی دستے کے سربراہ سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فلوٹیلا کے تین بڑے مقاصد ہیں: غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا، امداد کے لیے ہیومن کوریڈور قائم کرنا اور جاری نسل کشی کا خاتمہ کرنا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہے اور اس کا مقصد انسانیت کو بچانا ہے۔ مشتاق احمد نے عالمی ریاستوں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے اور امدادی بیڑوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کریں۔
اس سے قبل اسپین سے بھی ایک فلوٹیلا روانہ ہوا تھا، جس میں ماحولیات کی مہم کار گریٹا تھنبرگ، یورپی قانون ساز، عوامی شخصیات اور اداکار شامل تھے۔ توقع ہے کہ یہ بیڑا ستمبر کے وسط تک غزہ پہنچے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔