شیر افضل مروت کس کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے؟ علیمہ خان نے الزامات کا پنڈورا کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت جیسے لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں استعمال کر کے چھوڑ دیتی ہیں، بعد میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو ان کا یہی حال ہوتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ جج نے بچوں کی ضمانت منظور کی جو خوش آئند ہے لیکن جس طریقے سے انہیں اٹھایا گیا وہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چاہیں تو پوری فیملی کو اٹھا لیں، وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
علیمہ خان نے عدلیہ اور مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے ملٹری ٹرائل کا کیا ہوا، جبکہ ہمارے بزرگوں کے خفیہ ٹرائل کیے گئے اور کارکنان کو سزائیں سنائی گئیں۔ حسان خان نیازی کو اپیل کا حق تک نہیں دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کی اپیل نہیں سنی اور اس کے بدلے انہیں مستقل چیف جسٹس بنا دیا گیا، لیکن کل کو ان سب کو جواب دینا ہوگا۔
شیر افضل مروت کے الزام پر کہ بیرون ملک سوشل میڈیا اکاؤنٹس علیمہ کے بیٹے چلاتے ہیں، علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے مروت کو پہلے ہی پارٹی سے نکال دیا ہے، اب وہ چاہیں تو کسی اور پارٹی میں شامل ہو جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔