جناح ہاؤس کیس: علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے 9 مئی جناح ہاؤس حملہ کیس میں علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرلی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔ علیمہ خان اور عظمیٰ خان عدالت میں موجود رہیں جبکہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ مہرین قریشی بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ ملزم شیرشاہ کی جانب سے وکلاء رانا مدثر اور بیریسٹر تیمور نے دلائل دیے۔
وکیل رانا مدثر نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کے خلاف کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں، اس مقدمے میں اب تک شیرشاہ کی حد تک چالان بھی جمع نہیں کرایا گیا، جبکہ دیگر ایسے ملزمان جن پر زیادہ سنگین الزامات تھے، انہیں بھی ضمانت مل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک ملزم کی نشاندہی پر کسی دوسرے کو ملوث نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں جاری کرتے ہوئے شیرشاہ کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ عدالت نے شیرشاہ کی رہائی کا حکم دے دیا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شیرشاہ کی
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔