وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنے پچھلے دورِ حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلتے تو مدت پوری کرتے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ بار بار تسلسل کی بات ہو رہی ہے، آپ مری کی میٹنگ میں موجود تھے، کس تسلسل کی بات ہو رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مری میٹنگ میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی، یہ محض کسی ذہن کی اختراع ہے جو میٹنگ میں موجود بھی نہیں تھا، یہ بات صرف میڈیا کی ایجاد ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مری میٹنگ میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہم نے اس میٹنگ میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کیا، سیلاب پر بات کی، سیلاب ایک قومی المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، ہمارے ایجنڈے میں ضمنی الیکشن تھے جو آج ملتوی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین میں ہماری موجودگی بہت اچھی رہی، وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر وہاں موجود تھے، دوسرے ملکوں کے لوگ جس طرح وزیراعظم سے ملے ہیں، ان کو خوب پذیرائی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کیا کیا جائے کہ میڈیا یہ ڈسکشن کرے کہ ان کو اگلی صفوں میں کیوں کھڑا کیا گیا، یہ بات کی جا رہی تھی کہ شہباز شریف نے کپڑے کون سے پہنے ہوئے تھے، کھڑے کہاں تھے۔

کیا نواز شریف موجودہ نظام سے خوش ہیں کہ اسی طرح چلتا رہے معاملہ؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف مطمئن ہیں کہ چیزیں درست سمت جا رہی ہیں، “ووٹ کو عزت دو” والی بات گزر گئی ہے، وہ اب 5 سال کے بعد جب الیکشن ہوں گے تو آئے گی۔ اس وقت ہم گورننس یا سیاسی اسٹریٹجی کی بات کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بندے کے نظریات کو عملی شکل دینے کا ایک خاص وقت ہوتا ہے لیکن آپ اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ اگر ایک چیز کامیابی سے چل رہی ہے تو آپ دوسری چیز کو تھوڑی دیر کے لیے پیچھے کر سکتے ہیں۔ جیسے ابھی اچھی صورتحال ہے، جنگ میں کامیابی مل رہی ہے، معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں جس طرح تیزی سے ہماری ڈیولپمنٹ ہو رہی تھی، سی پیک چل رہا تھا، سڑکیں بن رہی تھیں، معیشت درست سمت جا رہی تھی، ایکسچینج ریٹ مستحکم تھا، اگر اس وقت نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلتے رہتے تو 5 سال وہ بھی پورے کر لیتے اور آج پاکستان کی صورتحال بہت مختلف ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارا ہدف ملکی استحکام ہے، چاہے وہ بھارت سے متعلق ہو یا معیشت سے، ہماری ایک سمت متعین ہو چکی ہے اور ہم نے اسی سمت پر چلنا ہے۔ ہم ماضی کی طرح اس سمت سے ڈسٹرکٹ (distract) نہیں ہونا چاہتے۔

حنیف عباسی کی جانب سے خود پر تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ہائبرڈ نظام سے متعلق میں ہمیشہ بات کرتا ہوں۔ ہائبرڈ نظام اب قابلِ فہم بات ہے۔ اگر وزیراعظم مجھے شٹ اپ کال دے دیں تو میں خاموش ہو جاؤں گا۔

کیا آپ کی مریم نواز سے نہیں بن رہی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: “مریم نواز میرے لیڈر کی بیٹی ہے، میری بیٹی ہے، وہ ہماری پارٹی کا مستقبل ہے، ان کو والد اور چچا گروم کر رہے ہیں، وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ میرے ان سے کوئی اختلاف نہیں ہیں، مجھے ہنسی آتی ہے جب ایسی باتیں ہوتی ہیں۔”

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہا سوال کے جواب میں کہ نواز شریف انہوں نے کہا میٹنگ میں نے کہا کہ رہی ہے ہو رہی

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف