20 کروڑ کے معاملے پر چاہت فتح علی خان کا علی حیدر کو طنزیہ جواب
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
پاکستانی سوشل میڈیا پر اپنے منفرد اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکار چاہت فتح علی خان نے علی حیدر کے حالیہ بیان پر طنز کے تیر چلا دیے۔
علی حیدر، جو گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ رائٹر اور میوزیشن بھی ہیں، ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے جہاں میزبان نے ان سے پوچھا کہ اگر 20 کروڑ روپے دیے جائیں تو کیا وہ چاہت فتح علی خان کے ساتھ گانا گانے پر راضی ہوں گے؟ اس پر علی حیدر نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ چاہت کو اپنی زندگی جینے دیں، یہ اس کا وقت ہے اور شاید اللہ نے اس کی کوئی بڑی دعا قبول کی ہے، اس لیے ان کے اور اللہ کے درمیان مت آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہت کو لوگ مزاحیہ یا تفریحی فنکار کہہ سکتے ہیں لیکن کم از کم انہیں جینے کا حق ضرور دیں۔
اس گفتگو کے بعد چاہت فتح علی خان نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں علی حیدر کو جواب دیتے ہوئے نہ صرف ان کے گانے پر طنز کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ علی حیدر کراچی چھوڑ کر امریکا جا بسے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر 20 کروڑ دینے کے باوجود وہ میرے ساتھ نہیں گائیں گے تو کوئی بات نہیں، میں تو خود ایک غریب آدمی ہوں اور اتنی بڑی رقم دینے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا، البتہ میں بھی جلد امریکا جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان علی حیدر کہا کہ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔