WE News:
2026-06-03@08:10:35 GMT

جرمنی نے یورپ کا تیز ترین سپر کمپیوٹر ’جوپیٹر‘ لانچ کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT

جرمنی نے یورپ کا تیز ترین سپر کمپیوٹر ’جوپیٹر‘ لانچ کر دیا

جرمنی میں یورپ کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر ’جوپیٹر‘ باضابطہ طور پر لانچ کر دیا گیا ہے۔

اسے مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں امریکی اور چینی غلبے کو کم کرنے اور موسمیاتی تحقیق سمیت مختلف سائنسی شعبوں میں اہم پیش رفت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

جوپیٹر سپر کمپیوٹر کیا ہے؟

یہ سپر کمپیوٹر مغربی جرمنی کے یولش سپرکمپیوٹنگ سینٹر میں نصب کیا گیا ہے۔

یہ یورپ کا پہلا ’ایگزا اسکیل‘ سپر کمپیوٹر ہے جو ایک سیکنڈ میں کم از کم ایک کوئنٹیلیئن (ایک ارب ارب) حسابات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Europe’s first exascale supercomputer, Jupiter, will be inaugurated Friday in Germany, promising to boost the continent’s capabilities in fields from artificial intelligence to climate science.

https://t.co/twQAKiA9iL

— RTL Today (@rtl_today) September 5, 2025

امریکا کے پاس پہلے ہی 3 ایسے سپر کمپیوٹرز موجود ہیں۔ جوپیٹر تقریباً 24 ہزار این ویڈیا چپس پر مشتمل ہے اور اسے یورپی یونین اور جرمنی نے مشترکہ طور پر 500 ملین یورو کی لاگت سے تیار کیا ہے۔

یولش سینٹر کے سربراہ تھامس لپرٹ کے مطابق یہ سپر کمپیوٹر جرمنی کے دیگر تمام کمپیوٹروں سے بیس گنا زیادہ طاقتور ہے۔

یورپ کی AI دوڑ میں اہم سنگ میل

ماہرین کے مطابق ’جوپیٹر‘ پہلا یورپی سپر کمپیوٹر ہے جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ٹریننگ میں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل ہوگا۔

اس سے قبل ایک اسٹینفورڈ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2024 میں امریکا نے 40 نمایاں AI ماڈلز تیار کیے، چین نے 15 جبکہ یورپ صرف 3 ماڈلز تیار کر پایا۔

فرانسیسی ٹیکنالوجی کمپنی Atos کی ذیلی کمپنی ایوڈن اور جرمن کمپنی ParTec نے مشترکہ طور پر یہ سپر کمپیوٹر تیار کیا ہے۔

دیگر سائنسی استعمالات

موسمیاتی تحقیق: جوپیٹر کی مدد سے محققین طویل مدتی موسمیاتی پیش گوئیاں کر سکیں گے، جن میں 30 سے 100 سال تک کے ماڈلز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کینسر ویکسین کی تحقیق کے لیے اے آئی سپر کمپیوٹر نے کام شروع کردیا

صحت کے شعبے میں تحقیق: دماغی عمل کی سمیولیشن کے ذریعے الزائمر جیسی بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔

توانائی کا شعبہ: ہوا کے بہاؤ کی سمیولیشن کے ذریعے ونڈ ٹربائنز کے ڈیزائن کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

توانائی کی کھپت اور ماحولیاتی پہلو

جوپیٹر اوسطاً 11 میگاواٹ بجلی استعمال کرے گا جو ہزاروں گھروں یا ایک چھوٹے صنعتی پلانٹ کے برابر ہے۔

تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے زیادہ توانائی مؤثر سپر کمپیوٹرز میں شامل ہے۔

یہ جدید واٹر کولنگ سسٹم استعمال کرتا ہے اور پیدا ہونے والی فالتو حرارت کو قریبی عمارتوں کو گرم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا جرمنی چین سپر کمپیوٹر یورپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا چین سپر کمپیوٹر یورپ سپر کمپیوٹر کے لیے

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار