متعدد یورپی ممالک کی طرح فن لینڈ کی بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
غزہ پر وحشیانہ بمباری اور جان بوجھ کر قحط مسلط کرنے کے بعد سے اسرائیل ایک بعد ایک اپنا اتحادی ملک کھوتا جارہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ممالک جس تیزی سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں اس سے اسرائیل کے دنیا میں تنہا رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کے باعث غزہ جنگ کے آغاز سے اتحادی رہنے والے ممالک نے نیتن یاہو کی حمایت بند کردی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا تھا کہ اسرائیل جنگ میں فتح حاصل کر رہا ہے لیکن دنیا میں اس کی ساکھ تیزی سے گر رہی ہے۔
ادھر سعودی عرب کی کاوشوں سے یورپی ممالک بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی ہوگئے ہیں۔ عالمی سطح پر اسے پذیرائی مل رہی ہے۔
فن لینڈ نے بھی اسرائیل-فلسطین تنازع کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر مبنی ایک بین الاقوامی اعلامیے میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
فن لینڈ کی وزیرِ خارجہ ایلینا والٹونن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں یہ عمل کئی سالوں بعد دو ریاستی حل کے لیے سب سے اہم عالمی کوشش ہے۔
فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا امن کے قیام کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ اعلامیہ جولائی میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔
یاد رہے کہ اسپین اور ناروے جیسے بعض یورپی ممالک فلسطین کو بطور ریاست پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔
فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فن لینڈ کی مخلوط حکومت اس مسئلے پر تقسیم کا شکار ہے اور باضابطہ طور پر فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
تاہم یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فن لینڈ بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح ممکنہ طور پر فلسطین کو ایک باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی ممالک فن لینڈ کی فلسطین کو تسلیم کر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔