صدر ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر 'محکمہ جنگ' رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک اہم حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کر کے "ڈپارٹمنٹ آف وار" (محکمہ جنگ) رکھ دیا۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارا جائے۔ ان کے بقول، "محکمہ جنگ کے نام کی یہ تبدیلی دنیا کو ایک واضح اور طاقتور پیغام دے گی کہ امریکا کسی بھی چیلنج کے لیے تیار ہے۔"
ٹرمپ نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر یہ نیا نام زیادہ موزوں ہے محکمہ جنگ کا دنیا کو امریکی قوت کا پیغام دے گا۔
اس موقع پر پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ بھی صدر کے ہمراہ موجود تھے۔ نام کی تبدیلی کے بعد وہ اب باضابطہ طور پر سیکرٹری آف وار (وزیرِ جنگ) کہلائیں گے۔
روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے حوالے سے معاہدہ زیر غور ہے ہم نے 7 جنگیں رکوائیں ، یوکرین روس جنگ رکوانا تھوڑا مشکل ہے لیکن ہم متحرک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے مسئلے میں رکاوٹ رویہ ہے۔ یوکرین کو سیکیورٹی ضمانت دینے پر کام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔