یورپی یونین نے گوگل پر 2.95 ارب یورو کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
برسلز: یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک گوگل پر 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یہ اقدام اس الزام کے تحت کیا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنی اشتہاری خدمات میں مسابقت کو ختم کرنے اور مارکیٹ میں غیر منصفانہ برتری حاصل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کیا۔
یورپی کمیشن کے مطابق گوگل نے ایڈٹیک کے شعبے میں اپنی طاقت کو غلط انداز میں استعمال کیا، جس سے نہ صرف پبلشرز اور مشتہرین بلکہ عام صارفین بھی متاثر ہوئے۔ اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا کا کہنا ہے کہ کمپنی کا یہ رویہ یورپی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹریسا ریبیرا نے امریکی جوابی اقدامات کے خدشے کے باعث اسی ہفتے کے آغاز میں فیصلے کو وقتی طور پر مؤخر کیا تھا، تاہم بعد میں سختی کے ساتھ اس جرمانے کو نافذ کر دیا۔ اس تناظر میں یورپی یونین یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ امریکا جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت گاڑیوں پر ٹیرف کم کرنے کے وعدے پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔
برسلز نے گوگل کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ’’خود پسندی کے رویے‘‘ کو ختم کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے مارکیٹ میں برابری کے اصول بحال ہوں۔ کمپنی کو 60 دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنی اصلاحات کا لائحہ عمل کمیشن کے سامنے پیش کرے۔ کمشنر ریبیرا نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ گوگل اپنے ایڈٹیک بزنس کا کچھ حصہ فروخت کرے۔
دوسری جانب گوگل نے یورپی یونین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے عالمی سربراہ برائے ریگولیٹری امور لی-این ملہولینڈ نے کہا کہ یہ جرمانہ بلاجواز ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں یورپی کاروبار متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کے لیے آمدنی حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل کی سروسز مکمل طور پر مسابقتی ہیں اور اب ان کے متبادل پہلے سے کہیں زیادہ دستیاب ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف یورپ اور امریکا کے تجارتی تعلقات پر دباؤ ڈال سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ڈیجیٹل مارکیٹ کے ضوابط اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔