این ڈی ایم اے اور امریکی وفد کا قدرتی آفات سے نمٹنے میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں امریکی وفد کے ساتھ 2 روزہ مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:این ڈی ایم اے کا سیلابی الرٹ، دریاؤں میں اونچے درجے کے بہاؤ کی نشاندہی، عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی قیادت میں امریکی سینٹرل کمانڈ اور ڈیزاسٹر ریسپانس گروپ نے این ڈی ایم اے کا دورہ کیا۔
اجلاس کے دوسرے روز امریکی محکمہ خارجہ کی ڈیزاسٹر ایکسپرٹ برائے ایشیا ایوانا ووکو اور ان کی ٹیم نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔
این ڈی ایم اے کی بریفنگچیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفد کو این ای او سی کے پیشگی انتباہی نظام، بین الاقوامی ریلیف و ریسپانس میکانزم اور جامع بین الاقوامی فرضی مشقوں (CISE) سے متعلق آگاہ کیا۔
اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور سیلاب وارننگ سسٹمز پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
امریکی وفد کے تاثراتامریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے این ڈی ایم اے کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماڈل اور CISE جیسے اقدامات کو خطے کے لیے مثالی قرار دیا۔
کی
لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک نے این ڈی ایم اے کے فعال اقدامات اور این ای او سی کے کردار کو سراہا۔
باہمی تعاون پر اتفاقامریکی وفد نے آفات سے بچاؤ اور مشترکہ مشقوں میں مزید تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ناظم الامور امریکی وفد این ڈی ایم اے پاکستان ڈیزاسٹر لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی ناظم الامور امریکی وفد این ڈی ایم اے پاکستان ڈیزاسٹر لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایم اے امریکی وفد
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔