مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، حماس نے یرغمالی رہا نہ کیے تو سنگین نتائج ہوں گے؛ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ امن معاہدے پر تفصیلی بات چیت جاری ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ کچھ اسرائیلی یرغمالی حال ہی میں مر گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے حماس سے کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ اور فوراً رہا کرو تو آپ کے حق میں بہت بہتر چیزیں ہوں گی۔
تاہم امریکی صدر نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو پھر ایک سخت اور ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوگی۔
‼️‼️ President Trump says the US administration is in deep negotiations with Hamas calling them to release all hostages…
He also revealed that Jared Kushner is involved in the negotiations .
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض مقتول یرغمالیوں کے والدین اپنے بچوں کی واپسی کے لیے اس طرح تڑپتے ہیں جیسے وہ زندہ ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہ کم از کم 20 یرغمالیوں میں سے کچھ ممکنہ طور پر حال ہی میں ہلاک ہوگئے ہوں تاہم وہ دعا گو ہیں کہ یہ خبریں درست نہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ٹیم، بشمول اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر، نے پہلے بھی کئی یرغمالیوں کی رہائی میں کردار ادا کیا لیکن جب آخری 10 یا 20 یرغمالیوں کی بات آتی ہے تو اُنہیں نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے یا تو بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں یا پھر جھکنا پڑتا ہے۔
‼️. Also Trump repeated his previous statements to Hamas : If they release the hostages good things will happen & otherwise it is going to be nasty . pic.twitter.com/80L0bzVYeJ
— Hiba Nasr (@HibaNasr) September 5, 2025امریکی صدر نے مزید کہا کہ لوگ 7 اکتوبر کو بھول جاتے ہیں لیکن اس دن کے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے حق میں جاری بڑے مظاہروں کو بھی نیتن یاہو کی حکومت کے لیے مشکل قرار دیا کیونکہ ان کے بقول اس سے جنگ جاری رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ نے کہا امریکی صدر کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔