کراچی میں جشنِ میلادالنبی ﷺ کا مرکزی جلوس برآمد، وزیراعلیٰ سندھ کی صوبائی وزرا کے ہمراہ شرکت
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
کراچی میں جشنِ میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں مرکزی جلوس میمن مسجد سے برآمد ہوگیا جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ شرکت کی۔
امیر جماعت اہلسنت شاہ عبدالحق قادری کی قیادت میں جلوس کا آغازہوا، شرکاء جلوس نبی رحمت ﷺ کی ولادت کے سلسلے میں نکالے گئے جلوس میں سبز پرچم لہرا رہے ہیں۔
جلوس ایم اے جناح روڈ کی جانب رواں دواں ہے اور شرکاء جلوس میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں نعرے بلند کررہے ہیں۔
جلوس کے راستے میں جگہ جگہ پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی گئی ہیں، دوران جلوس نعت خوانی کی جارہی ہے، مختلف نعت خواں نبی رحمت ﷺ کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کررہے ییں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال ایم کیوایم پاکستان کے جشن ولادت استقبالیہ کیمپ میں پہنچے، جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی جشنِ میلادالنبی ﷺ کے جلوس میں شرکت کی۔
اس موقع پر صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر رہنما بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جشنِ آمدِ رسول ﷺ کی مبارکباد پوری امتِ مسلمہ کو پیش کرتا ہوں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی میمن مسجد آمد
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا جشنِ میلادالنبی ﷺ کے جلوس میں شرکت
صوبائی وزراء؛ شرجیل انعام میمن، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر رہنما وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہیں pic.
قبل ازیں ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے میمن مسجد کراچی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول کو کراچی میں مرکزی جلوس سمیت شہر میں میلاد النبی ﷺ کے چھوٹے بڑے 500 سے زائد جلوس نکالے جار ہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلوسوں کے علاوہ میلاد النبی ﷺ کے 1 ہزار سے زائد اجتماعات ہورہے ہیں، جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے پورے شہر اور مرکزی جلوس کے راستے میں مجموعی طور پر 14 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا مرکزی جلوس میمن مسجد سے برآمد ہوگا، ایم اے جناح روڈ پر مرکزی جلوس میں مختلف مقامات پر 4 سے 5 مزید جلوس شامل ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی کلینڈر اور مذہبی سرگرمیوں کا آغاز محرم سے ہوتا ہے جو آج 12 ربیع الاول کو مکمل ہوتی ہیں، الحمد اللہ ہم نے گزشتہ دو ماہ بہتر سیکیورٹی اور امن و امان سے گزاریں ہیں۔
وزیراعلی سندھ کی ملیر میں عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں شرکت #ExpressNews #BreakingNews #LatestNews #latestupdates #PakistanZindabad #RabiulAwwal pic.twitter.com/HdJyoRVCNQ
— Express News (@ExpressNewsPK) September 6, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ سید مراد علی شاہ میلادالنبی ﷺ مرکزی جلوس جلوس میں کے ہمراہ ہے ہیں
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔