نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰؐ  کی ولادت باسعادت کی خوشی میں ملک بھر میں عید میلادالنبیؐ  مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔

شہروں اور قصبوں میں سبز پرچموں کی بہار ہے جبکہ مساجد اور بلند عمارتیں چراغاں سے جگمگا رہی ہیں۔

???? 12th Rabi ul Awal – Remembering the teachings of our beloved Prophet ﷺ. May Allah (SWT) guide us to follow his Sunnah.

????#RabiUlAwal #EidMiladUnNabi #NUMS pic.twitter.com/lBeNZ1whIz

— NUMS Official (@NumsOfficial) September 5, 2025

یوم میلاد کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی، سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

گورنر ہاؤس کراچی میں محفلِ میلاد

کراچی میں گورنر ہاؤس میں جشن میلاد النبیؐ کی پرنور محفل منعقد ہوئی۔

اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ حضورؐ کی سیرت طیبہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سالانہ کتبِ سیرت، نعت و مقالات کے مقابلوں کے نمایاں افراد کیلیے 12 ربیع الاول پر انعامات

انہوں نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں 12 ربیع الاول کے دن ہی گورنر کا منصب ملا۔

لاہور میں شہر گلی گلی روشن

لاہور میں گلیاں، محلے اور بازار سبز پرچموں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ مساجد کے مینار چراغاں سے منور ہیں اور شہری والہانہ انداز میں عید میلاد النبیؐ کا جشن منا رہے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی: جلوس اور محافل

اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی محافل میلاد اور جلوس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ شہری گھروں اور مساجد میں درود و سلام کی محفلوں کے ذریعے آقاؐ سے عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔

کوئٹہ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

کوئٹہ میں جشن میلاد النبیؐ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ شہر کی مساجد اور عمارتوں کو چراغاں سے سجایا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کے لیے 4 ہزار سے زائد پولیس اور ایف سی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی پلان کے تحت موبائل فون ڈیٹا سروس بند کر دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

12 ربیع الاول اسلام اباد عید میلاد کراچی کوئٹہ گورنر ہاؤس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 12 ربیع الاول اسلام اباد عید میلاد کراچی کوئٹہ گورنر ہاؤس عید میلاد کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار