لاہور(نیوزڈیسک) سرور کونین،آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی ولادت با سعادت کا جشن، ملک بھر میں عید میلاد النبی ﷺ آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

قریہ قریہ نگر نگر حضور پر نورﷺ کے دیوانے پرجوش، شہر شہر چراغاں کیا گیا، فضائیں درود و سلام کی صداؤں سے معطر ہوگئیں، مساجد، عمارتوں ، گلیوں اور بازاروں کو سجا دیا گیا، دیپالپور میں مشعل بردار جلوس نکالے گئے، عاشقان رسولﷺ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مساجد میں میلاد کی محافل کا بھی انعقاد کیاگیا،علماء کرام نے سیرت النبیﷺ پر سیر حاصل گفتگو کی، پنجاب اسمبلی پر بھی دیدہ زیب سجاوٹ کی گئی، اسلام آباد میں آٓج بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا، صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کی شرکت متوقع ہے۔

عید میلاد النبیﷺ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موبائل فون اورانٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔

نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ ایک کامل اور ہمہ جہت اسوہ ہے: صدر، وزیراعظم

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہبازشریف نے قوم اور مسلم امہ کو عید میلادالنبیﷺ کے بابرکت دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ ایک کامل اور ہمہ جہت اسوہ ہے۔

صدر مملکت آصف علی زردای نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ تاریخی اور یادگار موقع امت مسلمہ کیلئے خوشی اورعقیدت کا باعث ہے، 12 ربیع الاول اپنی زندگیوں کو تعلیمات نبویﷺ کے مطابق ڈھالنے کےعہد کا دن ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عید میلاد النبیﷺ پر پیغام میں کہا کہ سیرت طیبہ ہمارے لئے ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، ہمیں اپنے ملک پاکستان کو سیرت طیبہ کی عملی تعبیر بنانا ہے، ہمیں تعصب، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت کی ہر شکل کو رد کرنا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ ملک میں بھائی چارے، ایثار اور اتحاد کو فروغ دینا ہے، ملکی مسائل کا پائیدار حل نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کو قومی کردار کا حصہ بنانے میں ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عید میلاد کہا کہ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین