Al Qamar Online:
2026-07-24@06:25:36 GMT

ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں کاروبار سمیٹنے لگیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT

اسلام آباد : پاکستان میں دو درجن سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کاروبار ختم ہونے یا ان کے آپریشنز میں بڑے پیمانے پر کمی کا انکشاف سامنے آگیا۔ ایک انگریزی اخبار کے مطابق جولائی 2025 میں اعلان کیا گیا کہ مائیکروسافٹ نے 25 سال بعد پاکستان میں اپنا مقامی دفتر بند کر دیا ہے، ٹیک دیو نے 2000ءکی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں اپنی موجودگی قائم کی اور اس کے بعد سے لائسنسنگ، سافٹ ویئر پارٹنرشپ اور صلاحیت سازی میں اہم کردار ادا کیا لیکن اب خاموشی سے کام ختم کرتے ہوئے اپنے باقی ماندہ عملے کو فارغ کردیا۔

اس پر مائیکروسافٹ نے کہا کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت اور علاقائی استحکام کی جانب وسیع تر عالمی تنظیم نو کا حصہ تھا، تاہم مقامی کاروباری برادری نے اس فیصلے کو بین الاقوامی فرموں کے لیے پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کے طور پر دیکھا کیوں کہ مائیکروسافٹ کا اخراج کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں دو درجن سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں جنہوں نے پچھلے تین سالوں میں پاکستان میں اپنے آپریشنز کو یا تو بالکل ختم کر دیا ہے یا کافی حد تک کم کر دیا۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے جانے والی کمپنیوں میں مختلف سیکٹرز کے دنیا کے جانے پہچانے نام جیسا کہ شیل، پراکٹر اینڈ گیمبل، لوٹے، سیمنز انرجی، یونی لیور کا لپٹن ڈویژن اور ریکٹ بینکیزر کا ہیلتھ پورٹ فولیو نمایاں ہیں، یہ مسلسل اخراج پاکستان کے معاشی بیانیے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی کوششوں کے لیے ایک سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کے لیے غیر ملکی سرمائے کے ذرائع سے بڑھ کر تھیں کیوں کہ انہوں نے کارپوریٹ گورننس، ٹیکنالوجی اور انتظام میں عالمی معیارات متعارف کروائے، ان کی موجودگی نے مقامی صنعتوں کو جدید بنانے میں مدد کی اور پاکستانی افرادی قوت کو بین الاقوامی کاروباری طریقوں، مہارتوں کو بڑھانے اور مقامی ٹیلنٹ کو عالمی پیشہ ورانہ نیٹ ورکس میں ضم کرنے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔معلوم ہوا ہے کہ اس وقت مقامی کمپنیوں کے بورڈز میں خدمات انجام دینے والے بہت سے ایگزیکٹوز نے ان عالمی فرموں میں اپنی پیشہ ورانہ ترقی کا آغاز کیا جہاں انہوں نے وہ مہارتیں، تربیت اور ایکسپوڑر حاصل کیا جس نے انہیں قائدانہ کردار کے لیے تیار کیا، لہذا یہ اخراج نا صرف سرمایہ کاری کے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ادارہ جاتی تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے لیے بھی ایک دھچکا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں سے ایک پاکستانی روپے کی مسلسل گراوٹ ہے، جس نے 2021ءسے اپنی قدر کا 50 فیصد سے زیادہ کھو دیا، اس تیزی سے ہونے والی قدر میں کمی نے غیرملکی کمپنیوں کے لیے مقامی آپریشنز کو مالی طور پر ناقابل عمل بنا دیا، اس کے علاوہ منافع کی واپسی پر سخت پابندیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں، کیوں کہ پاکستان کے دائمی توازن ادائیگی کے بحران کی وجہ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سخت سرمائے کے کنٹرول نافذ کیے جس کی وجہ سے کمپنیوں کو بیرون ملک منافع بھیجنے سے روکا گیا۔رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اکثر اقتصادی فیصلہ سازی میں مستقل اقتصادی سمت کی عدم موجودگی اور غیر منتخب اداروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بڑی رکاوٹوں کے طور پر بتایا، بعض صورتوں میں کمپنیوں نے سابقہ ٹیکس کے مطالبات یا درآمدی قوانین میں اچانک تبدیلیوں سے آگاہی نہ دیے جانے کی بھی اطلاع دی کیوں کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی اور آپریشنز کی حکمت عملیوں میں خلل پڑتا ہے۔

TagsImportant News from Al Qamar.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان میں ملٹی نیشنل کیوں کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ