WE News:
2026-06-03@05:00:00 GMT

’غزہ میں کچھ یرغمالی مر چکے‘، ٹرمپ کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

’غزہ میں کچھ یرغمالی مر چکے‘، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے انتہائی اہم مذاکرات کر رہا ہے، مگر امکان ہے کہ ان میں سے کچھ افراد حال ہی میں جاں بحق ہو چکے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:حماس، ریڈ کراس کو اسرائیلی یرغمالیوں تک مشروط رسائی دینے پر رضامند

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیس لوگ ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں سے کچھ شاید حال ہی میں فوت ہو گئے ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ خبر غلط ہو۔

یاد رہے کہ7  اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔

حماس کی قید میں موجود ایک اسرائیلی

اب تک 146 افراد کو رہا یا بازیاب کرایا جا چکا ہے جبکہ 83 کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اب بھی 47 یرغمالی باقی ہیں، جن میں سے 27 مر چکے ہیں۔

جاری حملے اور صورتحال

اسرائیلی فوج نے غزہ میں کارروائی تیز کرتے ہوئے بلند عمارتوں پر بمباری کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں حماس کے زیرِ استعمال تھیں، لیکن حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب لاکھوں فلسطینی شہری محفوظ مقام کی تلاش میں دربدر ہیں، تاہم حماس نے لوگوں کو کہا ہے کہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔

اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔

جنگ بندی کی شرط

یرغمالیوں کی رہائی کا دارومدار جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے پر ہے۔ قطر اور مصر کی ثالثی سے 60 دن کی فائر بندی کی تجویز دی گئی تھی، لیکن اسرائیل نے اسے قبول کرنے کے بجائے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر یرغمالیوں کو فوری طور پر نہ چھوڑا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ یہ سب کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حماس کو اب ختم کرنا ہی ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا حماس صدر ٹرمپ غزہ فلسطین یرغمالی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا فلسطین یرغمالی

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان