واشنگٹن میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاج، فوجی انخلا کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی دارالحکومت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی تعیناتی کے فیصلے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاجی مارچ *وی آر آل ڈی سی* (We Are All D.C.) کے نام سے منعقد ہوا، جس میں تارکین وطن، فلسطین کے حامیوں اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور “فری ڈی سی” کے نعرے لگاتے ہوئے حکومت کے اقدام کو آمریت سے تعبیر کیا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ وہ شہر پر فوجی قبضے کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ سڑکوں سے فوج ہٹائی جائے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں دیگر شہروں میں بھی دہرائے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت واشنگٹن میں دو ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات ہیں، جن میں چھ ریپبلکن اکثریتی ریاستوں سے آنے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ان کی مدتِ قیام واضح نہیں کی گئی، تاہم امریکی فوج نے ڈی سی نیشنل گارڈ کی ڈیوٹی 30 نومبر تک بڑھا دی ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ جرائم کی شرح کو بنیاد بنا کر فوج تعینات کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ محکمہ انصاف کے مطابق 2024 میں واشنگٹن میں پرتشدد جرائم کی شرح گزشتہ تیس برسوں کی کم ترین سطح پر رہی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔
رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔