واشنگٹن میں فوج کی تعیناتی کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج، ٹرمپ سے فیصلہ واپس لینےکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
واشنگٹن میں فوج کی تعیناتی کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج، ٹرمپ سے فیصلہ واپس لینےکا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہزاروں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شہر کی سڑکوں پر فوج کی تعیناتی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔
وی آر آل ڈی سی ‘We Are All D.
پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین نے ‘فری ڈی سی’ اور ٹرمپ کے اقدام کے خلاف نعرے لگائے، انہوں نے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن پر قبضے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فوج کو ہماری سڑکوں سے ہٹایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت آمریت کے طرز پر اقدامات آزما رہی ہے اور یہی طریقہ بعد میں مزید علاقوں میں اپنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 6 ریپبلکن اکثریتی ریاستوں سے بھیجے گئے اہلکاروں سمیت 2 ہزار سے زائد فوجی شہر کی سڑکوں پر تعینات ہیں۔ ان کے قیام کی مدت فی الحال غیر واضح ہے تاہم امریکی فوج نے ڈی سی نیشنل گارڈ کی ڈیوٹی 30 نومبر تک بڑھا دی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ ماہ شہر میں جرائم کی شرح کا حوالہ دے کر فوج کی تعیناتی کا حکم دیا تھا لیکن محکمہ انصاف کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں واشنگٹن میں پرتشدد جرائم کی شرح گزشتہ 30 برسوں کی کم ترین سطح پر تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں کا مظاہرہ، صدر ٹرمپ سے غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ غزہ میں بدترین اسرائیلی مظالم جاری، ہرگھنٹے ایک بچہ شہید ہونے کا انکشاف قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے، صدر مملکت کا یوم فضائیہ پر پیغام نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈیلا منڈیلا کا غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شمولیت کا اعلان دشمن یاد رکھے اگلی بار اسکور 60 صفر ہوگا، ایئر وائس مارشل شہریار خان امریکی صدر کا محکمہ دفاع کا نام بدل کر ’محکمہ جنگ‘ رکھنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فوج کی تعیناتی واشنگٹن میں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔