Daily Sub News:
2026-07-24@11:34:28 GMT

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز

رائٹر: نواب آف جوناگڑھ سٹیٹ، نواب علی مرتضی خانجی


2025 جنوبی ایشیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن سال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ خطہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے بڑے دھارے کا حصہ بن چکا ہے اوردنیا کی بدلتی طاقتوں کی کشمکش نے اسے مزید اہم بنا دیا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں پہلگام واقعے کے بعد واضح تناؤ پیدا ہوا ہے جبکہ اس صورتحال میں امریکہ کا پاکستان پہ اعتماد پیدا ہوا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔

یہی نہیں گزشتہ کچھ سال سے کینیڈا اور امریکہ میں بھارت کے خفیہ آپریشن بے نقاب ہونے پہ بھی مغربی ممالک کے سامنے بھارت کا شدت پسندانہ چہرہ واضح ہوا ہے۔ ساتھ ہی سات واشنگٹن کی تجارتی پالیسیوں اور سخت ٹیرف نے نئی دہلی کے لیے مشکلات پیدا کیں، جبکہ عسکری تعاون میں بھی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ اس تناظر میں بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور ہے، لیکن آج داخلی سیاسی دباؤ اور بیرونی محاذ پہ بڑھتی ہوئی تنہائی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔


دوسری طرف چین اور روس نے باہمی تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ جس کا اندازہ ہم حال ہی میں چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی گفتگو سے لگا سکتے ہیں۔ چین اور روس سمیت ہم خیال ممالک کے مابین معاشی شراکت داری کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون اور توانائی کے منصوبے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ قربت نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ جنوبی ایشیا کے تزویراتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کی ہم خطے میں ایک بڑے بلاک کی شکل اختیار کر رہی ہے، جو مغربی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے موقع بھی پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ مغربی اور مشرقی طاقتوں کے ساتھ اپنی سفارت کاری کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور نتیجتاً خطے میں استحکام کا ضامن بن رہا ہے ۔


پہلگام واقعے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اس حصے پر مرکوز کر دی۔ تاہم اس بار پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کیا بلکہ عالمی برادری میں ایک بار پھر اپنی حیثیت منوائی۔پاکستانی افواج نے آپریشن بنیان مرصوص اور بعد ازاں آپریشن مارکہ حق میں جس مہارت، نظم و ضبط اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب محض ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی قائم کر رہا ہے۔

یہ آپریشنز کم سے کم وقت اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مکمل ہوئے اور ایک نئی دفاعی روایت قائم کی۔خطے کے تناظر میں یہ کامیابیاں اس وقت سامنے آئیں جب دنیا معاشی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار تھی۔ امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف نے بھارت سمیت بیشتر ممالک کی معیشت کو مشکلات سے دوچار کیا، لیکن پاکستان نے اس صورتحال کو ایک موقع میں بدل دیا۔ نہ صرف امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا بلکہ ٹیرف میں نرمی حاصل کر کے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کی۔


اسی دوران، پاکستان کے سفارتی محاذ پر بھی اہم کامیابیاں سامنے آئیں۔ چین اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات رکھنا عالمی تناظر میں ایک مشکل امر سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اسلام آباد نے متوازن سفارت کاری کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا۔ امریکی قیادت نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا، یہاں تک کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں ایک خصوصی لنچ دیا۔ یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی حالیہ جنگ میں بھی پاکستان نے حقیقت پسندانہ پالیسی سے نہ صرف خطے میں اپنی ساکھ کو بہتر کیا بلکہ ایران کی جانب سے بھی پذیرائی حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو داخلی طور پر سیاسی دباؤ اور معاشی مشکلات کا سامنا تھا، لیکن بروقت فیصلوں اور مربوط حکمتِ عملی نے صورتحال کو سنبھال لیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس جنگ نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، لیکن اب یہ کردار ایک مثبت رخ اختیار کر چکا ہے جہاں پاکستان کو بطور “حل فراہم کرنے والے ملک” دیکھا جا رہا ہے۔

یہ تمام کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی ہم آہنگی، سول و عسکری قیادت کے درمیان تعاون، قومی اتفاقِ رائے اور سفارت کاری میں تسلسل نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک نئی جگہ دلائی ہے۔ اس میں بلا شبہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سوچ اور تدبر کا اہم کردار ہے،اور در اصل یہ کامیابی پوری ریاست اور عوام کے اتحاد کی ہے۔


پاکستان آج صرف ایک دفاعی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو خطے میں استحکام، امن اور ترقی کے لیے مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ 2025 کا سال اس لحاظ سے ایک سنگ میل ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی داخلی خوداعتمادی بحال کی بلکہ دنیا کو بھی یہ باور کرا دیا کہ یہ خطے کا مستقبل سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن پاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب یوم دفاع حجاب: پاکستان کی روایت، ترکیہ کا سفر قدرتی آزمائشیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ایس سی او تھیانجن سمٹ 2025 TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار