Daily Sub News:
2026-06-03@08:08:42 GMT

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت

پاکستان: عالمی افق پر ابھرتی طاقت WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز

رائٹر: نواب آف جوناگڑھ سٹیٹ، نواب علی مرتضی خانجی


2025 جنوبی ایشیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن سال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ خطہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے بڑے دھارے کا حصہ بن چکا ہے اوردنیا کی بدلتی طاقتوں کی کشمکش نے اسے مزید اہم بنا دیا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں پہلگام واقعے کے بعد واضح تناؤ پیدا ہوا ہے جبکہ اس صورتحال میں امریکہ کا پاکستان پہ اعتماد پیدا ہوا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔

یہی نہیں گزشتہ کچھ سال سے کینیڈا اور امریکہ میں بھارت کے خفیہ آپریشن بے نقاب ہونے پہ بھی مغربی ممالک کے سامنے بھارت کا شدت پسندانہ چہرہ واضح ہوا ہے۔ ساتھ ہی سات واشنگٹن کی تجارتی پالیسیوں اور سخت ٹیرف نے نئی دہلی کے لیے مشکلات پیدا کیں، جبکہ عسکری تعاون میں بھی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ اس تناظر میں بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور ہے، لیکن آج داخلی سیاسی دباؤ اور بیرونی محاذ پہ بڑھتی ہوئی تنہائی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔


دوسری طرف چین اور روس نے باہمی تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ جس کا اندازہ ہم حال ہی میں چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی گفتگو سے لگا سکتے ہیں۔ چین اور روس سمیت ہم خیال ممالک کے مابین معاشی شراکت داری کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون اور توانائی کے منصوبے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ قربت نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ جنوبی ایشیا کے تزویراتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کی ہم خطے میں ایک بڑے بلاک کی شکل اختیار کر رہی ہے، جو مغربی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے موقع بھی پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ مغربی اور مشرقی طاقتوں کے ساتھ اپنی سفارت کاری کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور نتیجتاً خطے میں استحکام کا ضامن بن رہا ہے ۔


پہلگام واقعے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اس حصے پر مرکوز کر دی۔ تاہم اس بار پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کیا بلکہ عالمی برادری میں ایک بار پھر اپنی حیثیت منوائی۔پاکستانی افواج نے آپریشن بنیان مرصوص اور بعد ازاں آپریشن مارکہ حق میں جس مہارت، نظم و ضبط اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب محض ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی قائم کر رہا ہے۔

یہ آپریشنز کم سے کم وقت اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مکمل ہوئے اور ایک نئی دفاعی روایت قائم کی۔خطے کے تناظر میں یہ کامیابیاں اس وقت سامنے آئیں جب دنیا معاشی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار تھی۔ امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف نے بھارت سمیت بیشتر ممالک کی معیشت کو مشکلات سے دوچار کیا، لیکن پاکستان نے اس صورتحال کو ایک موقع میں بدل دیا۔ نہ صرف امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا بلکہ ٹیرف میں نرمی حاصل کر کے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کی۔


اسی دوران، پاکستان کے سفارتی محاذ پر بھی اہم کامیابیاں سامنے آئیں۔ چین اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات رکھنا عالمی تناظر میں ایک مشکل امر سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اسلام آباد نے متوازن سفارت کاری کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا۔ امریکی قیادت نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا، یہاں تک کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں ایک خصوصی لنچ دیا۔ یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی حالیہ جنگ میں بھی پاکستان نے حقیقت پسندانہ پالیسی سے نہ صرف خطے میں اپنی ساکھ کو بہتر کیا بلکہ ایران کی جانب سے بھی پذیرائی حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو داخلی طور پر سیاسی دباؤ اور معاشی مشکلات کا سامنا تھا، لیکن بروقت فیصلوں اور مربوط حکمتِ عملی نے صورتحال کو سنبھال لیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس جنگ نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، لیکن اب یہ کردار ایک مثبت رخ اختیار کر چکا ہے جہاں پاکستان کو بطور “حل فراہم کرنے والے ملک” دیکھا جا رہا ہے۔

یہ تمام کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی ہم آہنگی، سول و عسکری قیادت کے درمیان تعاون، قومی اتفاقِ رائے اور سفارت کاری میں تسلسل نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک نئی جگہ دلائی ہے۔ اس میں بلا شبہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سوچ اور تدبر کا اہم کردار ہے،اور در اصل یہ کامیابی پوری ریاست اور عوام کے اتحاد کی ہے۔


پاکستان آج صرف ایک دفاعی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو خطے میں استحکام، امن اور ترقی کے لیے مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ 2025 کا سال اس لحاظ سے ایک سنگ میل ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی داخلی خوداعتمادی بحال کی بلکہ دنیا کو بھی یہ باور کرا دیا کہ یہ خطے کا مستقبل سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن پاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب یوم دفاع حجاب: پاکستان کی روایت، ترکیہ کا سفر قدرتی آزمائشیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ایس سی او تھیانجن سمٹ 2025 TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار