ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر بی سی سی آئی کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
نیو دہلی:
بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکرٹری دیوجیت سائیکیا نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کے حوالے سے وضاحت پیش کی ہے، جس میں کہا گیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو اس حوالے سے مرکزی حکومت کی پالیسی پر عمل کرنا پڑتا ہے۔
دیوجیت سائیکیا نے کہا کہ بھارت کی حالیہ پالیسی کے مطابق کثیرالملکی یا بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں بھارت کی شرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں وہی فالو کرنا پڑتا ہے جو مرکزی حکومت طے کرتی ہے اور نئی پالیسی کے تحت ہمیں ایسے ممالک کے خلاف کھیلنے کی اجازت ہے جن سے بھارت کے دوستانہ تعلقات نہیں ہیں جب تک کہ یہ کثیرالملکی ٹورنامنٹ نہ ہو۔
بی سی سی آئی کے سیکرٹری نے مزید کہا کہ چونکہ ایشیا کپ ایک ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ ہے اس لیے بھارت کی ٹیم اس میں شرکت کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی واضح طور پر کہتی ہے کہ اگر کوئی ٹورنامنٹ کثیرالملکی ہے تو بھارت کو اس میں شرکت کرنی ہوگی چاہے اس میں پاکستان جیسے ممالک بھی شریک ہوں۔
دیوجیت سائیکیا نے کہا کہ یہ پالیسی صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ دوسرے کھیلوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، اگر بھارت کسی دوسرے کھیل میں کسی ملک کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو اس پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر اتھلیٹکس فیڈریشن پر پابندی لگتی ہے تو نیرج چوپڑا جیسے کھلاڑی عالمی ایونٹس میں شرکت نہیں کر پائیں گے اور یہ نیرج چوپڑا جیسے کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
سائیکیا نے کہا کہ بھارتی حکومت نے یہ پالیسی سوچ سمجھ کر بنائی ہے تاکہ نہ صرف کھیلوں کے ایونٹس بلکہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور کیریئر پر بھی اثر نہ پڑے۔
ان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد بھارت کی کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کھیلنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی ملکی کرکٹ کو عالمی منظرنامے پر بہتر مقام دلانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سائیکیا نے یہ پالیسی نے کہا کہ بھارت کی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔