واشنگٹن:

امریکا کے سابق اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ مارک کمٹ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان حالیہ قربت سے بھارت کو بہت کچھ سوچنا چاہیے۔

بھارتی صحافی برکھادت نے برطانوی ٹی وی میزبان کے شو کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز میں شائع اپنے مضمون میں بتایا کہ اگرچہ مجھے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے حوالے سے امریکی رویے اور بھارتی جذبات کے درمیان خلیج کا کچھ اندازہ تھا لیکن برطانوی ٹی وی میزبان پیئرز مورگن کی میزبانی میں ایک حالیہ شو میں یہ بڑھتی ہوئی خلیج میرے سامنے اور واضح ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ مورگن کے مہمانوں میں امریکی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل مارک کِمٹ بھی شامل تھے جو سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے اور 30 سالہ فوجی خدمات کے حامل ہیں۔

برکھادت نے بتایا کہ مارک کمٹ نے مجھے اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے بھارت کی ٹرمپ کی دھمکی کے سامنے نہ جھکنے والی پوزیشن کو ’’تکبر‘‘ قرار دیا اور پھر کہا کہ امریکا اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان حالیہ قربت پر بھارت کو سوچنے پر مجبور ہونا چاہیے۔

بھارتی صحافی نے بتایا کہ شو کا پس منظر چین کی فوجی طاقت کا مظاہرہ تھا، جہاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کھڑے تھے اور سوال تھا کہ کیا چین عالمی منظرنامے میں نیا ’’سربراہ‘‘ بن گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے ایک دن قبل مودی، پیوٹن اور شی جن پنگ کی تصویر سب کے ذہنوں میں تازہ تھی اور سابق امریکی عہدیدار مارک کِمٹ اور دیگر افراد جاننا چاہتے تھے کہ بھارت ’’آمروں‘‘ کے حلقے میں کیا کر رہا ہے۔

برکھادت نے امریکی صدر کے اقدامات کو کھلی منافقت سے تعبیر کیا تاہم چین کے بارے میں محتاط رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ گالوان کے بعد اور حال ہی میں آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی کھلی حمایت کے پر میں چین سے آنے والی تصویروں کو فی الحال محض حکمتِ عملی سمجھتی ہوں۔

بھارتی صحافی نے ایک اور امریکی تجزیہ کار کے حوالے سے کہا کہ میں نے اس بارے میں بات کی تاکہ امریکی عوام کے رجحان کا اندازہ لگا سکوں تو تجزیہ کار نے بتایا کہ لوگ عام طور پر تجارتی پالیسی جیسے تکنیکی موضوعات پر رائے نہیں رکھتے جبکہ بھارتی صحافی نے بتایا کہ میں نے جواب دیا کہ یہ تجارتی پالیسی نہیں، بلکہ جغرافیائی سیاست، سیکیورٹی اور عالمی سلامتی کا معاملہ ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی صحافی کے حوالے سے نے بتایا کہ

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو