پاکستان کو ارلی وارننگ سسٹم کے نام پر 2017 سے قرض مل رہا ہے مگر حکومتوں نے کچھ نہیں کیا، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے کہا ہے کہ پاکستان کو ارلی وارننگ سسٹم کے لیے 2017 سے قرض ملنا شروع ہوا مگر حکومتوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں منعقدہ " محفوظ مستقبل؛ آبی وسائل کا موثر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ" کے عنوان سے سیمینار سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستانی قوم کے سامنے مسائل کا حل بھی رکھتی ہے، حکومت کی جانب سے مسائل کا حل پیش نہ کرنے کی وجہ سے ملک مشکلات میں گھرتا جا رہا ہے، پانی کے مسئلے جماعت اسلامی کے "ری بلڈ پاکستان " منصوبے کا حصہ بنائیں گے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ منظم طریقے سے قوم کو ساتھ لے کر چلا جائے تو پاکستان بہت آگے جا سکتا ہے، ہم نے مشکل حالات میں اپنے ازلی دشمن کو شکست دی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 2017 میں پاکستان کو ارلی وارننگ کے لیے قرض ملنا شروع ہوا مگر حکومتوں نے ارلی وارننگ کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے، ارلی وارننگ سسٹم نہ لگانے کے ذمہ داران کا تعین کیا جا نا چاہیے۔
ڈیمز بننے چاہییں!!بڑی حکومتیں ذمہ دار! بحران کا اصل سبب۔۔ حافظ نعیم کھل کر سامنے آگئے،بڑی باتیں کر دیں#HafizNaeem #Dams #WaterCrisis #BreakingNews #PakistanPolitics #Karachi #WaterIssue #PakistanUpdates pic.
حافظ نعیم نے کہا کہ سیلاب سے قبل کے اقدامات حکومت کو کرنے ہیں، موسمیاتی وارننگ سے متعلق ہمارے پاس الات نہیں۔ سیلاب اور بارشوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کام نہیں کیا اگر کلاؤڈ بریسٹ کی بروقت اطلاعات دی جاتیں تو انسانی جانیں بچ سکتی تھیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر پہاڑوں پر درخت موجود ہوں تو دو ڈگری درجہ حرارت کم کر سکتے ہیں
درجہ حرارت کم ہونے سے ہم کلاؤڈ بریسٹ سے بچا جاسکتا ہے، حکومت میں شامل لوگ درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔ بونیر سمیت ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے مجرم درخت کاٹنے والے لوگ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ارلی وارننگ حکومتوں نے حافظ نعیم نے کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔