WE News:
2026-07-24@02:21:58 GMT

6 ستمبر 1965، وہ دن جب قوم آسمان بن گئی

اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT

6 ستمبر 1965، وہ دن جب قوم آسمان بن گئی

وہ سحر کتنی بھیانک تھی جب دشمن نے لاہور کی دہلیز پر قدم رکھا، مگر یہ دھرتی کتنی خوش قسمت تھی کہ اس کے بیٹے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کو تیار کھڑے تھے۔ 6 ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ہماری رگوں میں دوڑتے خون کی حرارت ہے، یہ وہ دن ہے جب ایک چھوٹی سی قوم نے دنیا کو بتایا کہ جذبۂ ایمان کے سامنے توپیں اور ٹینک بیکار ہیں۔

ستمبر 1965 کی جنگ اچانک برپا نہیں ہوئی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور طاقت کے زعم نے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ بھارت کا منصوبہ یہ تھا کہ اچانک حملہ کر کے لاہور اور سیالکوٹ پر قبضہ کر لیا جائے اور پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔

6 ستمبر کی صبح، بھارت نے لاہور پر حملہ کیا۔ دشمن کو یقین تھا کہ وہ ناشتے کا وقت لاہور جمخانہ میں گزارے گا، مگر پاکستانی فوج اور عوام کے عزم نے اُس کے خواب خاک میں ملا دیے۔ بھارتی جنرل جے این چوہدری نے ایک موقع پر اعتراف کیا تھا کہ: ’ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستانی اس شدت سے مقابلہ کریں گے۔‘

بھارت نے جنگ کے پہلے ہی دن پاکستان کے سرگودھا، پشاور، کراچی اور راولپنڈی کے ہوائی اڈوں پر حملے کیے۔ اُس وقت بھارت کے پاس تقریباً 500 جنگی طیارے تھے جبکہ پاکستان کے پاس محض 150۔ لیکن پاک فضائیہ نے کمال مہارت اور جرات کے ساتھ یہ برتری ختم کر دی۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اُس وقت لکھا: ’پاکستانی پائلٹس کی ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت نے بھارتی فضائیہ کی برتری کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ناکام بنا دیا۔‘

ایم ایم عالم — فضاؤں کا ہیرو:

7 ستمبر 1965 کو سرگودھا کی فضاؤں میں ایک ایسا لمحہ آیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ ہنٹر طیارے مار گرائے۔ یہ کارنامہ آج بھی عالمی فضائی تاریخ کا حصہ ہے۔

ایم ایم عالم نے بعد میں کہا تھا: ’یہ میری نہیں، اللہ کی مدد اور میرے ساتھیوں کی دعاؤں کی بدولت ممکن ہوا۔‘

یہ جملہ اُن کے ایمان اور عاجزی کی جھلک ہے۔

آپریشن گرینڈ سلیم اور فضائی معاونت:

پاکستان نے زمینی محاذ پر ’آپریشن گرینڈ سلیم‘ شروع کیا تاکہ اکھنور کے پل پر قبضہ کر کے بھارتی رسد کی لائنیں کاٹ دی جائیں۔ اس آپریشن میں فضائیہ نے دشمن کے توپ خانے اور قافلوں کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ یہ آپریشن سیاسی وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا، مگر اس نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے۔

عوامی جذبہ اور ریڈیو پاکستان:

یہ جنگ صرف فوج نے نہیں لڑی بلکہ پوری قوم نے۔ لاہور کے شہری خوراک اور پانی لے کر مورچوں تک پہنچتے، اسکولوں کے طلبہ خون دیتے، خواتین اسپتالوں میں نرسنگ کرتیں۔ ایک طالبہ نے اُس وقت ایک زخمی فوجی سے کہا تھا: “بھائی! اگر تم شہید ہو گئے تو ہم تمہاری جگہ لڑیں گے۔” یہ جذبہ ہی پاکستان کی اصل طاقت تھی۔

ریڈیو پاکستان اُس وقت حوصلے کی سب سے بڑی آواز تھا۔ نور جہاں کی آواز میں گائے گئے ترانے، مثلاً “اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے”، فوجیوں کے دلوں کو فولاد بنا دیتے۔ مسعود رانا کا ترانہ “اے راہِ حق کے شہیدو” شہداء کو امر کر دیتا۔ ایک برطانوی صحافی نے لکھا تھا:

“پاکستان میں ریڈیو صرف ایک ادارہ نہیں تھا، یہ جنگ کا ایک ہتھیار تھا۔”

جنگ کے دوران پاک فضائیہ نے بھارت کے 104 طیارے تباہ کیے جبکہ اپنے صرف 19 کھوئے۔ یہ تناسب بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مہارت اور جذبہ ہی اصل ہتھیار ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا: “پاکستانی فضائیہ کی کارکردگی ناقابلِ یقین تھی، انہوں نے اپنے چھوٹے بیڑے کو بڑے دشمن کے خلاف ڈھال بنا دیا۔”

کراچی ایئر بیس پر بھارتی حملے ناکام ہوئے۔ پشاور پر بمباری کے باوجود پاکستانی طیارے فضاؤں میں بلند رہے۔ سرگودھا کی فضائیں تو دشمن کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئیں۔ دشمن کا ہر حملہ اُس کے اپنے نقصان پر ختم ہوا۔

یقیناً 6 ستمبر کو ہم ایم ایم عالم جیسے ہیروز کو یاد کرتے ہیں، مگر اُن گمنام پائلٹس اور سپاہیوں کو بھی نہیں بھول سکتے جن کے نام شاید کتابوں میں کم درج ہوئے مگر جن کی قربانی کے بغیر یہ وطن آج آزاد نہ ہوتا۔ جنرل ایوب خان نے کہا تھا: “یہ جنگ ہمارے سپاہی نہیں، ہمارے شہداء جیتے ہیں۔”

یقیناً 1965 کی جنگ ایک تاریخ ہے، مگر یہ تاریخ زندہ پیغام ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ قوم متحد ہو تو بڑے سے بڑا دشمن بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ آج کی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دفاع صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔

ہر دن یومِ دفاع ہے، اور ہر پاکستانی کو اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جذبۂ قربانی اور اتحاد ہی وہ ہتھیار ہیں جو ہمیں آج کے چیلنجز میں بھی فتح دلا سکتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم ایم عالم دشمن کے تھا کہ

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف