بارش و سیلاب میں گاڑیوں کی تباہی، یہ نقصان کون پورا کرے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
سیلاب ہوں یا شہری علاقوں میں ہونے والی بارشیں ہزاروں گاڑیاں اس کی زد میں آکر خراب ہو جاتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ لوگوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں موسلا دھار بارش، سڑکیں تالاب میں تبدیل، گاڑیاں ڈوب گئیں
چیئرمین آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن حاجی محمد شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی انشورنس کرانے میں گزشتہ کئی سالوں میں تیزی دیکھی گئی ہے اور اگر گاڑی انشورڈ تھی تو سیلاب میں گاڑی کو ملنے والا نقصان انشورنس کمپنی پورا کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے حکومت پاکستان کو آگے بڑھ کر لوگوں کا نقصان پورا کرنا چاہیے اور جن جن صوبوں میں تباہی ہو رہی ہے وہاں کی حکومتیں بھی اس میں مدد کریں تاکہ لوگوں کا نقصان پورا ہو سکے۔
محمد شہزاد نے کہا کہ گاڑی بنانے والی کمپنوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔ ان کا مزید کہا کہ دنیا میں ہم نے دیکھا کہ جب بھی ایسی صورت حال ہوتی ہے تو کمپنیاں لکھتی ہیں کہ آپ ہمیں یہ گاڑی واپس کردیں ہم آپ کو دوسری گاڑی دے دیتے گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40 سال سے ٹیوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کام کررہی ہیں جن کو اس وقت آگے آنا ہوگا اور یہی وقت ہے اس ملک کو اور یہاں پر رہنے والوں کو کچھ دینے کا۔
محمد شہزاد کے مطابق پاکستان میں اس سے پہلے ایسا حادثہ رونما نہیں ہوا کہ جس میں اتنی تعداد میں گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایئر بیگز 80 کی دہائی میں لگنا شروع ہوچکے تھے جبکہ ہمارے ملک میں 2012-14 کے بعد لگنا شروع ہوئے اور اب گاڑیاں ای وی آرہی ہیں تو ان کے اندر ہمیں وہ تمام اشیا واٹر پروف ہونی چاہیں۔
مزید پڑھیے: اگلا مون سون زیادہ شدت والا ہوگا، وفاقی وزیر مصدق ملک کا انتباہ
ان کا کہنا تھا گاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے واٹر پروف کرنا ضروری ہے اور اس کے تمام آلات کو سنبھالنے کا کام ہم بآسانی کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں موجود آٹو انڈسٹری سے جڑے سرکاری و نجی ادارے آگے بڑھ کر نقصانات کا ازالہ کریں۔
آٹو سیکٹر ماہر مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ سیلاب میں انسان کو بچا لیا جائے یہ ہی بہت بڑی بات ہے اب گاڑی کو کوئی کیسے بچائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عام (نان الیکٹرک) گاڑیوں میں بھی الیکٹرانک اشیا موجود ہوتی ہیں جن کا سسٹم بھی حالیہ بارشوں میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں عام گاڑیوں کی بھی مینٹیننس کاسٹ بڑھ جاتی ہے ایسے میں صارف کیا کرسکتا ہے کیوں کہ یہاں گاڑیوں کی انشورنس کروانا بھی ایک مہنگا نسخہ ہے۔
مشہود علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسی کوئی گاڑی نہیں بنائی گئی جس میں پانی سے بچنے کے لیے کچھ کیا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک الیکٹرک گاڑیوں کی بات ہے تو ان میں تو الیکٹرکل آلات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے انہیں سڑکوں پر پانی میں تحفظ دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں میں سینسر لگے ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کے خراب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مون سون بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال، ریلوے آپریشن متاثر
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آٹو مینوفکچرنگ ممالک اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ گاڑیوں کو کیسے تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ چند سالوں میں ہم دیکھیں گے کہ مارکیٹ میں پانی سے محفوظ گاڑیاں موجود ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹرک کاریں بارشیوں میں گاڑیوں کی تباہی پاکستان پاکستان سیلاب سیلاب میں گاڑیوں کی تباہی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک کاریں پاکستان پاکستان سیلاب ان کا کہنا تھا میں گاڑیوں کی کہنا تھا کہ سیلاب میں نے کہا کہ انہوں نے میں گاڑی
پڑھیں:
شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
شانگلہ+ گلگت (نامہ نگار+ ایجنسیاں) شانگلہ کے علاقے رحیم آباد باسی میں کچے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں چھ بچے جاں بحق ہوگئے ۔ریسکیو حکام کے مطابق مکان کے ملبے تلے دب کر 6 بچے‘ کوہستان کے مقام پر گاڑی کھائی میں گرنے سے 6 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 4 سے 15 سال کے درمیان تھیں، ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں سکردو سے راولپنڈی جانے والی ایک مسافر گاڑی پٹن کوہستان کے علاقے میں کھائی میں گر گئی۔اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب سکردو میں ہی دیوسائی روڈ کی بندش کی وجہ سے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑک کا ایک حصہ پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا جس کے بعد سے یہ اہم راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پورے علاقے کا رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کا اپنے پیاروں سے رابطہ کرنا ناممکن ہو گیا۔ سکردو گلگت روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے کے سبب پٹرول کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ ہیوی مشینری کے ذریعے راستہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں، قلت کے باعث کئی پیٹرول پمپس بند ہوگئے۔