منظم طریقے سے قوم کو ساتھ لے کر چلا جائے تو پاکستان بہت آگے جا سکتا ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے مسائل پر حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظم طریقے سے قوم کو ساتھ لے کر چلا جائے تو پاکستان بہت آگے جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں "محفوظ مستقبل؛ آبی وسائل کا مؤثر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ" کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی پاکستانی قوم کے سامنے مسائل کا حل بھی رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسائل کا حل پیش نہ کرنے کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہوتا رہا ہے، پانی کے مسئلے کو جماعت اسلامی کے "ری بلڈ پاکستان " منصوبے کا حصہ بنائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ منظم طریقے سے قوم کو ساتھ لے کر چلا جائے تو پاکستان بہت آگے جا سکتا ہے، ہم نے مشکل حالات میں اپنے ازلی دشمن کو شکست دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں پاکستان کو ارلی وارننگ کے لیے قرض ملنا شروع ہوا، حکومتوں نے ارلی وارننگ کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے، ارلی وارننگ سسٹم نہ لگانے کے ذمہ داران کا تعین کیا جا نا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ہم مدد کرسکتے ہیں، سیلاب سے قبل کے اقدامات حکومت کو کرنے ہیں، موسمیاتی وارننگ سے متعلق ہمارے پاس آلات نہیں، اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کام نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کلاؤڈ برسٹ کی بروقت اطلاعات سے انسانی جانیں بچاسکتے ہیں، اگر پہاڑوں پر درخت موجود ہوں تو دو ڈگری درجہ حرارت کم کر سکتے ہیں، درجہ حرارت کم ہونے سے ہم کلاؤڈ برسٹ سے بچا جاسکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت میں شامل لوگ درختوں کو کاٹ رہے ہیں، بونیر سمیت ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے مجرم درخت کاٹنے والے لوگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔