پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافی طیب بلوچ پر تشدد، پی ایف یو جے نے احتجاج کی کال دیدی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ نے سینیئر صحافی طیب بلوچ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے تشدد کے خلاف احتجاج کی کال دے دی۔
یہ اعلان ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں سینیئر صحافی طیب بلوچ اور دیگر پر تشدد کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان سے سوال پوچھنا جرم بن گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر تشدد، گالم گلوچ
فیصلے کے مطابق احتجاجی مظاہروں کا آغاز 9 ستمبر بروز منگل شام 4 بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مظاہرے سے کیا جائے گا، جس کا انعقاد راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام ہوگا۔
احتجاجی مظاہرے کا اعلان pic.
— Shiraz Hassan (@ShirazHassan) September 8, 2025
اگر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اس واقعے پر معذرت نہ کی گئی تو 10 ستمبر بروز بدھ کو راولپنڈی پریس کلب لیاقت باغ کے باہر دوسرا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر ان دونوں مظاہروں کے باوجود پی ٹی آئی نے معذرت نہ کی تو پھر اڈیالہ جیل کے باہر اور ملک گیر سطح پر احتجاج کی کال دی جائے گی۔
ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آر آئی یو جے کے صدر طارق ورک نے جڑواں شہروں کے تمام صحافیوں سے مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی اور سیکرٹری نیئر علی نے بھی طیب بلوچ پر حملے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے تمام صحافیوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی طیب بلوچ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیر اطلاعات کا ردعمل
واضح رہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی پریس کانفرنس کے دوران سینیئر صحافی طیب بلوچ کو سوال کرنے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دیگر صحافی فیصل حکیم اور اعجاز احمد نے جب انہیں بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی تشدد کا نشانہ بنے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاج کی کال اڈیالہ جیل افضل بٹ پی ایف یو جے پی ٹی آئی کارکن تشدد صحافی طیب بلوچ علیمہ خان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتجاج کی کال اڈیالہ جیل افضل بٹ پی ایف یو جے پی ٹی ا ئی کارکن صحافی طیب بلوچ علیمہ خان وی نیوز صحافی طیب بلوچ احتجاج کی کال طیب بلوچ پر پی ٹی ا ئی پریس کلب
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔