صحافی طیب بلوچ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیر اطلاعات کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے صحافی طیب بلوچ پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی صحافی کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے، اور اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جب دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو کچھ عناصر تشدد کا راستہ اپناتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عدم برداشت کا شکار ہیں۔
صحافی طیب بلوچ کو صرف اور صرف اختلاف رائے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ نا قابل قبول ہے۔ سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جب دلیل نہ ہو تو تشدد کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ ہے ان کی سوچ جو عدم برداشت پر مبنی ہے۔ ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہوں اور اس کیس میں بھی بھرپور… https://t.
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 8, 2025
انہوں نے مزید کہاکہ اس قسم کی سوچ نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف ہے بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ بھی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمیشہ سے صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور اس کیس میں بھی طیب بلوچ کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائےگا۔
صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی طیب بلوچ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کے دوران اس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی جب سوال کرنے پر صحافی طیب بلوچ پر پی ٹی آئی کارکنوں نے تشدد کیا، جبکہ کچھ دیگر صحافیوں کو بھی دھکے دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کے دوران بدنظمی، صحافیوں پر تشدد
صحافیوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کے اس رویے پر علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کردیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل صحافی طیب بلوچ تشدد علیمہ خان میڈیا ٹاک وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل صحافی طیب بلوچ تشدد علیمہ خان میڈیا ٹاک وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز صحافی طیب بلوچ پی ٹی ا ئی علیمہ خان میڈیا ٹاک
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔