پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی نئی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ 

ڈکی بھائی ان دنوں پولیس کی حراست میں ہیں انہیں اپنی ویلاگز میں جوا ایپ کو پروموٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی تھی۔ 

پولیس نے ڈکی بھائی کے خلاف قانونی ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ڈکی بھائی نے اپنی ویدیوز میں مداحوں کو بیٹنگ ایپس میں پیسہ لگانے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو مالی نقصان پہنچا۔

ڈکی اس وقت جسمانی ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جس کو 3 ستمبر 2025 کو منظور کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر ڈکی بھائی کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس میں انہیں ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا۔

ان ویڈیوز پر جہاں سوشل میڈیا صارفین تنقید کر رہے ہیں وہیں کچھ مداح یوٹیوبر سے ہمدردی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔


ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈکی اپنی ویڈیوز میں غیر ضروری مواد دکھاتے ہیں اور ان کی وجہ سے لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں جبکہ نوجوان نسل پڑھائی لکھائی میں دلچسپی لینے کے بجائے کانٹینٹ بنانے میں زیادہ لچسپی لے رہی ہے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ڈکی بھائی

پڑھیں:

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف  سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر  میاں افتخار حسین نے نیشنل  سائبرکرائم  انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)  میں  درخواست جمع کرادی۔

 ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا  پر مذہبی بنیادوں  پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز  مہم  قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد  اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔

امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام

میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ  این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری  اور شفاف  تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد  پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت