علیمہ خان کی گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر تشدد
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
علیمہ خان کی گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر تشدد WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے صحافیوں پر تشدد کیا جس پر میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔
صحافی طیب بلوچ کو تشدد کا نشانہ بنا کر میڈیا ٹاک سے باہر نکال دیا گیا۔ تشدد کرتا دیکھ کر بھی قیادت کی جانب سے کارکنان کو نہیں روکا گیا۔ ایس پی صدر نبیل کھوکھر، اے ایس پی زینب ایوب اور ایس ایچ او اعزاز عظیم نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔
متاثرہ صحافیوں کی جانب سے اڈیالہ چوکی میں درخواست دی جا رہی ہے۔تشدد کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے نفری بھی طلب کر لی گئی، پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد اڈیالہ کے قریب موجود ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں سیلاب سے صورتحال بگڑ رہی ہے، بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں، عظمی بخاری پنجاب میں سیلاب سے صورتحال بگڑ رہی ہے، بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں، عظمی بخاری بلاول بھٹو کا زرعی ایمرجنسی لگانے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی کے بل معاف کرنے کا مطالبہ چیف جسٹس کا رواں عدالتی سال میں تمام کورٹس کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا اعلان وزیراعظم کی زیر صدارت سیلابی صورتحال پر اجلاس، امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت سپریم کورٹ کے چار ججز کا چیف جسٹس کو خط، عدالتی رولز کی سرکولیشن کے ذریعے منظور پر تحفظات زیڈ کے بی کا ملک گیر مشن: صحت، تعلیم اور روزگار کی مفت فراہمی کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی ٹی آئی کا خان کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔