کراچی: گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد، استری سے جلانے کے مقدمے میں میاں، بیوی کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی نے پی ای سی ایچ ایس میں گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد اور استری سے جلانے کیخلاف مقدمے میں ملزمان میاں، بیوی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو پی ای سی ایچ ایس میں گھریلو ملازمہ بچی زینب پر تشدد اور استری سے جلانے کیخلاف مقدمے میں ملزمان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
پولیس نے ملزمان میاں، بیوی شہروز اور کنول کو عدالت میں پیش کیا، وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے، ہم پھر سے واقعے پر معذرت خواہ ہیں۔
عدالت نے ملزمان کی 30، 30 ہزار روپے کے عوض ضمانت منظور کرلی، پولیس نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
پولیس کے مطابق زینب کی کمر، ہاتھ اور ٹانگوں کو گرم استری سے بری طرح جلایا گیا، بچی کو علاج معالجے کے لیے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔
وقوعہ کی اطلاع ملنے پر بچی پر تشدد میں ملوث ملزمان میاں بیوی کو گرفتار کرکے فیروز آباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔