لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے، چار ماہ سے مون سون ختم نہیں ہو رہا اور لوگوں کی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی آر لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں سیلاب پہنچ گیا ہے، بارشیں مزید تباہی لا رہی ہیں اور پانی پر کسی کا اختیار نہیں۔ بس آخری وقت پر اطلاع ملتی ہے کہ پانی آگیا ہے۔ لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور حکومت متاثرین کے لیے بھرپور ریلیف کام کر رہی ہے۔

ان کے مطابق اب تک 4335 موضع جات متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ آبادی 42 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ 21 لاکھ سے زائد افراد اور ساڑھے 15 لاکھ مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے 60 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک ہزار 543 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ تقریباً 18 لاکھ 581 ایکڑ رقبہ زیرِ آب آنے سے فصلیں، دالیں اور سبزیاں مہنگی ہوگئی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہی ہیں اور بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرنے والی ہیں۔ شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات کم کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ صاف پانی اتھارٹی نے متاثرین کو چار روز میں پانچ لاکھ لیٹر پانی فراہم کیا ہے جبکہ ریلیف کیمپس قائم ہیں۔ ڈینگی کے خدشات کے پیشِ نظر متاثرہ علاقوں میں سرویلنس اور اسپرے کا عمل جاری ہے۔

سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گجرات کو اربوں روپے فنڈز ملے لیکن آج تک سیوریج کا نظام نہیں بن سکا۔ اب یہ کام بھی مریم نواز کریں گی، جس پر 16 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عوام سے اپیل کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جائے اور پانی کم ہونے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں بغیر اجازت واپس نہ جایا جائے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رہی ہیں نے کہا

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا